ٹوکیو (16 مارچ 2026): جاپان نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو ہری جھنڈی دکھا دی، جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائچی نے پارلیمنٹ کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
روئٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کے لیے جاپان صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے، جاپان آزادانہ طور پر ممکنہ اقدامات اور قانونی دائرہ کار کا جائزہ لینا چاہتا ہے، اور اس نے مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے ابھی کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
سانائے تاکائچی اس ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گی، جاپانی وزیرِ اعظم نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اس ہفتے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں ایران سے جاری کشیدگی پر بات چیت ہوگی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر جاپان کا مؤقف پیش کریں گی۔
انھوں نے واضح کیا کہ جاپان خطے میں فوری ڈی اسکیلیشن کا حامی ہے اور ایران تنازع پر جلد کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
اس سے قبل آسٹریلیا اور برطانیہ نے بھی واضح کر دیا تھا کہ ان کا آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے جہاز بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یہ اہم آبی راستہ ہے جسے ایران نے زیادہ تر تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا ہے، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ اتحادی ممالک پر حمایت فراہم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دینا عالمی توانائی اور تجارتی بہاؤ کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس کے باعث تاریخ میں تیل کی سپلائی میں سب سے بڑا خلل پیدا ہوا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ اتوار کے روز ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ پہلے ہی 7 ممالک سے حمایت کے لیے رابطہ کر چکی ہے، تاہم انھوں نے ان ممالک کے نام بتانے سے انکار کیا۔ اس سے قبل ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انھوں نے کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک اس میں حصہ لیں گے۔
ٹرمپ نے اتوار کو فلوریڈا سے واشنگٹن جاتے ہوئے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’میں ان ممالک سے مطالبہ کر رہا ہوں کہ وہ آ کر اپنے ہی علاقے کا تحفظ کریں، کیوں کہ یہ ان کا ہی علاقہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے انھیں اپنی توانائی ملتی ہے۔‘‘ ٹرمپ نے اس ہفتے کے آخر میں کہا تھا کہ انھیں توقع ہے کہ بہت سے ممالک جنگی جہاز بھیجیں گے تاکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی جاری رہ سکے۔ یہ آبی راستہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔
تاہم اب تک صدر کی اپیلوں کے نتیجے میں کسی ملک کی جانب سے باضابطہ وعدہ سامنے نہیں آیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


