The news is by your side.

Advertisement

12 برسوں سے روزانہ صرف 30 منٹ سونے والا شخص

ٹوکیو: جاپان میں ایک شخص کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 12 برس سے روزانہ صرف 30 منٹ یعنی آدھے گھنٹے کے لیے ہی سوتے ہیں، اور وہ خود کو مکمل صحت مند اور توانا و چست محسوس کرتے ہیں۔

ڈائیسوکے ہوری کی عمر 36 سال ہے، ان کا کہنا ہے کہ جب سے انھوں نے روزانہ سونے کا وقت کم کر دیا ہے، تب سے وہ بہ مشکل ہی کبھی تھکن کا شکار ہوتے ہیں۔

ہوری جاپان کے شارٹ سلیپر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہیں، اور وہ سینکڑوں لوگوں کو سونے کا وقت کم سے کم کرنے کی تکنیک سکھاتے ہیں، اس امید پر کہ وہ بھی ان کی طرح ‘زرخیز’ طرز زندگی اپنا سکیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے محسوس کیا کہ وہ ایک دن میں جو کچھ کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے 16 گھنٹے کافی نہیں ہیں، چناں چہ انھوں نے 8 گھنٹوں کی نیند کو 30 منٹ پر لانے کے لیے مختلف طریقوں سے تجربہ کرنا شروع کر دیا۔

ہوری نے ایک مشہور جاپانی ٹی وی کے عملے کو دعوت دی کہ وہ تین دن تک ان کے معمولات کی نگرانی کریں، اور دیکھیں کہ وہ کس طرح نیند کو قابو کرتے ہیں، پہلے دن ہوری 8 بجے صبح جاگے، اس دن وہ جم گئے، مطالعہ کیا، لکھا اور لوگوں سے ملے، اور پھر وہ رات 2 بجے سو گئے۔

لیکن محض 26 منٹ بعد وہ بغیر الارم کے خود ہی جاگ گئے، انھوں نے لباس بدلا، اور جم جانے سے قبل چند دوستوں کے ہمراہ سرفنگ کے لیے گئے۔

ہوری اپنی راتیں ویڈیو گیمز کھیل کر گزارتے ہیں، سرفنگ کرتے ہیں، اور کم سونے والے دیگر دوستوں کے ساتھ ملنے نکل جاتے ہیں، چوں کہ وہ سب نیند کے حوالے سے تربیت یافتہ ہیں اس لیے مل کر اچھا وقت گزارتے ہیں۔

لوگ یہ جاننے کے لیے بے تاب رہتے ہیں کہ ہوری آخر کس طرح اس غنودگی سے لڑ لیتے ہیں جو کھانا کھانے کے بعد انسولین کی وجہ سے حملہ آور ہوتی ہے۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ انھیں بھی غنودگی ہوتی ہے لیکن وہ سونے سے بچنے کے لیے کیفین کا استعمال کرتے ہیں۔

ہوری نے بتایا کہ انھوں نے نیند کا دورانیہ کئی برسوں میں بتدریج کم کیا، تاہم لوگ اب بھی مشکل ہی سے یقین کرتے ہیں کہ وہ محض آدھے گھنٹے ہی لیے نیند لیتے ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹرز اور طبی محققین تحقیقی مطالعات کے بعد تواتر سے مشورہ دیتے آ رہے ہیں کہ روازنہ 6 سے 8 یا 9 گھنٹوں تک نیند ضرور لینی چاہیے اور یہ صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں