The news is by your side.

جاپانی وزیراعظم نے روس پر مزید پابندیاں عائد کردیں

ٹوکیو : جاپانی وزیراعظم کِشیدا فُومیو نے روسی سونے کی درآمدات پر پابندی سمیت روس پر اضافی پابندیوں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کِشیدا فُومیو اور گروپ آف سیون کے دیگر رہنماؤں نے گزشتہ روز جنوبی جرمنی میں منعقدہ سربراہ اجلاس میں سفارتی اور سلامتی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔

انہوں نے یوکرائن کی صورت حال کا ذکر کیا اور کہا کہ دنیا تاریخ کے ایک دوراہے پر کھڑی ہے اور اب اس کے امتحان کا وقت ہے کہ آیا وہ قواعد و ضوابط کی بنیاد پر قائم بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھ سکتی ہے یا نہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جاپانی وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جیسے بنیادی ڈھانچے موجودہ صورتحال سے مناسب طریقے سے نمٹنے کے قابل نہیں رہے۔

انہوں نے جن اضافی پابندیوں کا اعلان کیا ان میں روسی سونے کی درآمدات پر پابندی اور روس کو اکاؤنٹنگ، ٹرسٹ اورچند دیگر اقسام کی خدمات فراہم کرنے پر پابندی شامل ہے۔

وزیراعظم کِشیدا نے یہ بھی کہا کہ جاپان مزید 70 روسی افراد اور تنظیموں کو اس میں شامل کرنے کی غرض سے اثاثے منجمد کرنے کے اپنے اقدامات کو وسعت دے گا اور فوج سے متعلقہ 90 تنظیموں کیلئے برآمدات پر پابندی نافذ کرے گا۔

انہوں نے بظاہر چین کا نام لیے بغیر کہا کہ جاپان ایک ایسی دنیا کو مسترد کرتا ہے جہاں طاقت کے ذریعے حالات کی موجودہ حیثیت میں کوئی بھی یکطرفہ تبدیلی برداشت کی جاتی ہو۔

انہوں نے قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر بین الاقوامی نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کو یوکرائن کے بحران سے غلط سبق نہیں سیکھنا چاہیے۔

جاپانی وزیراعظم نے چینی حکومت کے بحری جہازوں کی جاپانی پانیوں میں دراندازی کے سلسلے اور بحیرۂ مشرقی چین میں گیس کے کنوؤں کی یکطرفہ کھدائی کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ موجودہ حیثیت کو بزورِ طاقت یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کی اہمیت کی نشاندہی کی اور ہند- بحرالکاہل خطے میں سلامتی تعاون کو مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی۔

وزیراعظم نے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل ترقیاتی منصوبوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو شمالی کوریا کو یہ غلط فہمی نہیں ہونے دینی چاہیے کہ ان منصوبوں کو مزید آگے بڑھانے کا ایک در کھل گیا ہے کیونکہ بین الاقوامی برادری یوکرائن کے بحران پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

انہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے تمام شمالی کوریائی ہتھیاروں کے مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل واپسی انداز میں خاتمے کا ہدف حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں