The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل میں جاپانی وزیر اعظم کو جوتے میں میٹھا پیش کردیا گیا

تل ابیب: اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے سرکاری رہائش گاہ پر جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے کو دئیے گئے عشائیے میں میٹھا جوتے میں پیش کردیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جن جوتوں میں میٹھا پیش کیا گیا وہ اصلی نہیں تھے بلکہ خاص دھات کے بنے ہوئے تھے، جاپانی وزیر اعظم نے میٹھا تو کھا لیا لیکن جاپانی سفارتکار سیخ پا ہوگئے اور سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے ذاتی شیف نے جن جوتوں میں میٹھا پیش کیا ان میں چاکلیٹس، اور شیریں خوان موجود تھیں، جاپان میں جوتے کو انتہائی توہین آمیز سمجھا جاتا ہے، جاپانی اپنے دفاتر میں جوتے اتار کر داخل ہوتے ہیں۔

جاپانی وزیر اعظم نے کسی بھی قسم کا ردعمل دئیے بغیر شیریں خوان بھی چکھا اور چاکلیٹس بھی کھائیں تاہم دیگر ممالک کے سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ جاپان میں جوتے سے زیادہ بے وقعت چیز اور کوئی نہیں ہے، جاپانی اس واقعے کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کھانے میں پیش کی جانے والی ڈشز کی منظوری وزارت خارجہ نے نہیں دی تھیں، ہم شیف کا احترام کرتے ہیں اور اسے سراہتے ہیں، وہ انتہائی تخلیقی ذہن رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ جاپان کے وزیر اعظم اپنی اہلیہ کے ہمراہ رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں اسرائیل کے سرکاری دور پر پہنچے تھے، جہاں اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ نے مہمانوں کو اپنے سرکاری گھر میں مدعو کیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں