اتوار, مئی 10, 2026
اشتہار

8.5 ارب ڈالر کی بھارتی آئل ریفائنری میں مودی کے افتتاح سے پہلے ہی آگ بھڑک اٹھی

اشتہار

حیرت انگیز

نئی دہلی (21 اپریل 2026): بھارت کی 8.5 ارب ڈالر کی راجستھان ریفائنری میں نریندر مودی کے افتتاح سے قبل ہی آگ لگ گئی۔

روئٹرز کے مطابق بھارت کی مغربی ریاست راجستھان کے ضلع بالوترا میں واقع ایک بڑی آئل ریفائنری میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، یہ بات پیر کے روز وزارتِ پیٹرولیم اور ریفائنری انتظامیہ نے بتائی۔

یہ آگ ایچ پی سی ایل راجستھان ریفائنری لمیٹڈ کے کمپلیکس میں خام تیل کی کشید کے یونٹ کے قریب بھڑکی، جس کے باعث وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے منگل کو ہونے والی اس کے افتتاح کی تقریب مؤخر کر دی گئی۔

سرکاری کمپنی ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ، جو اس منصوبے میں اکثریتی حصص کی مالک ہے، کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ ایک والو کے ذریعے ہائیڈروکاربن کے اخراج کو قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ میں اسلام مخالف انفلوئنسر ویلنٹینا گومیز کے داخلے پر پابندی

ایچ پی سی ایل کے مطابق پلانٹ اور اس کی تنصیبات کا ڈھانچا متاثر نہیں ہوا، وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع بھی نہیں ملی، اور واقعے کی وجوہ جاننے اور اصلاحی اقدامات کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

یہ تنصیب بھارت کی پہلی گرین فیلڈ مربوط ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس ہے، جو ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور حکومتِ راجستھان کے درمیان مشترکہ منصوبہ ہے۔

یہ منصوبہ 794.59 ارب بھارتی روپے (8.53 ارب ڈالر) کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے اور جولائی میں اس کی تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کی توقع ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 90 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں