The news is by your side.

Advertisement

جون ایلیا: ‘کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو’

آج اردو زبان کے اس روایت شکن اور باغی شاعر کا یوم پیدائش منایا جارہا ہے

آج معروف شاعر جون ایلیا کا 89 واں یوم پیدائش منایا جارہا ہے۔ انھیں اس دور کے مقبول شاعر اور ایک پُراثر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جن کا مخصوص شعری لب و لہجہ اور کلام ہی مشاعرہ پڑھنے کا منفرد انداز بھی نوجوانوں‌ میں‌ خاصا مقبول ہوا۔

جون ایلیا کا اصل نام سید جون اصغر تھا۔ وہ 14 دسمبر 1931ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایسے علمی و ادبی گھرانے سے تھا جس میں زبانوں کے علاوہ اصنافِ ادب، سماجی موضوعات، فلکیات، نجوم اور مختلف موضوعات پر گفتگو اور پڑھنے لکھنے کا رجحان تھا اور یہی نہیں بلکہ علمی مباحث اور نشستیں بھی گویا اس گھر کا معمول تھا۔ ان کے والد علامہ شفیق حسن ایلیا عالم تھے۔

جون ایلیا اردو، فارسی، عربی اور عبرانی زبانیں‌ جانتے تھے۔ فلسفہ، تاریخ، منطق ان کا موضوع تھا اور شاعری ان کا وہ فن تھا جس نے انھیں‌ شہرت اور مقبولیت دی۔

جون ایلیا کی زندگی میں ان کا ایک شعری مجموعہ شاید کے نام سے شایع ہوا تھا۔ حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات پر 2000ء میں انھیں صدارتی تمغہ برائے حُسنِ کارکردگی عطا کیا تھا۔

جون ایلیا کو ان کی غزلوں اور نظموں میں‌ محبوب سے براہِ راست تخاطب اور مخصوص ڈھب سے شکوے شکایات کے ساتھ ان کے منفرد رومانوی انداز کے سبب خاص طور پر سراہا جاتا ہے۔

ان کا ایک شعر ہے
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا

اور یہ اشعار دیکھیے
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسم دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

ایک اور شعر ملاحظہ کیجیے
جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی
چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی

Comments

یہ بھی پڑھیں