The news is by your side.

Advertisement

مسافر طیارے کو نشانہ بنا کر غلطی کی: ایرانی وزیر خارجہ کا اعتراف

نئی دہلی: ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اعتراف کرلیا کہ یوکرین کے طیارے کو گرا کر ہم نے غلطی کی، طیارے کو مار گرانے کا واقعہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث ہوا۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک کانفرنس میں شرکت کی، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جواد ظریف نے اعتراف کیا کہ یوکرین کے طیارے کو گرا کر ہم نے غلطی کی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ طیارے کو مار گرانے کا واقعہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث ہوا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا جنرل سلیمانی کو پسند نہیں کرتا تھا، جنرل سلیمانی کی فوج تھی جو داعش کے خلاف مؤثر کارروائی کر رہی تھی۔ ان کی موت کا جشن ٹرمپ، پومپیو اور داعش منا رہے ہیں۔

جواد ظریف کا کہنا تھا کہ امریکا کو خطے میں کشیدگی ختم کرنے کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ میں نہیں جانتا برطانوی وزیر اعظم کی تجویز ٹرمپ ڈیل کب تک چلے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ اس وقت 3 روزہ دورے پر بھارت میں موجود ہیں جہاں وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ 8 جنوری کی شب ایرانی دارالحکومت تہران کے ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے والا یوکرین کا مسافر طیارہ ٹیک آف کے 8 منٹ بعد ہی گر کر تباہ ہوگیا، المناک حادثے میں 176 افراد ہلاک ہوئے جن میں ایرانی شہریوں سمیت یوکرین، کینیڈا، برطانیہ، افغانستان، سوئیڈن اور جرمنی کے شہری شامل تھے۔

ابتدا میں ایرانی حکام اسے حادثہ قرار دیتے رہے تاہم جلد ہی ایران نے اعتراف کرلیا کہ مسافر طیارے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

واقعے سے تھوڑی دیر قبل ہی ایرانی میزائلوں نے بغداد میں 2 امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد امریکا ایران تعلقات میں خطرناک موڑ آگیا اور مشرق وسطیٰ میں سخت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں