لاس اینجلس(6 مئی 2026): ہالی ووڈ کے معروف اداکار جیویر بارڈیم نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطین کی حمایت پر مجھے کام ملنا بند ہو گیا۔
مشہور ہسپانوی اداکار اور آسکر ایوارڈ یافتہ جیویر بارڈیم نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطین کی کھل کر حمایت کرنے کی وجہ سے انہیں "پیشہ ورانہ سزا” کا سامنا ہے اور ان کے ہاتھ سے کئی فلمی منصوبے اور برانڈ ڈیلز نکل گئی ہیں۔
57 سالہ اداکار جو غزہ میں جاری جنگ کے خلاف آواز اٹھانے والے نمایاں ترین فنکاروں میں شامل ہیں، نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ انہیں فلمی حلقوں سے ایسی باتیں سننے کو مل رہی ہیں کہ مخصوص پراجیکٹس یا اشتہاری مہمات کے لیے ان کا نام فائنل تھا لیکن ان کے سیاسی موقف کی وجہ سے وہ آفرز واپس لے لی گئیں۔
بارڈیم کا کہنا ہے کہ وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے کیونکہ وہ اسپین میں رہتے ہیں اور صرف امریکی اسٹوڈیوز ہی کام کا واحد ذریعہ نہیں ہیں۔
جیویر بارڈیم نے ہالی ووڈ کی سینئر اداکارہ سوزن سیرینڈن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی فلسطین کے حق میں ریلی میں شرکت پر ہالی ووڈ سے بے دخل کر دیا گیا ہے، جو اس سسٹم کی خرابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ لوگ آپ کو ‘بلیک لسٹ’ کر دیتے ہیں، لیکن اب وہ دیکھ رہے ہیں کہ بیانیہ بدل رہا ہے اور بہت سے نئے لوگ انہیں اپنے پراجیکٹس میں شامل کرنے کے خواہش مند ہیں۔
یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں منعقدہ آسکر ایوارڈز 2026 کی تقریب میں جیویر بارڈیم نے اپنے کوٹ پر فلسطین کا بیج لگایا تھا اور اسٹیج پر ایوارڈ پیش کرنے سے قبل "فلسطین آزاد کرو” کا نعرہ بلند کیا تھا۔
جیویر بارڈیم نے اس وقت بھی اسٹیج پر کہا تھا کہ انہیں توقع تھی کہ ان کے اس جملے پر لوگ برا منائیں گے لیکن اس کے برعکس ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ فلمی برادری میں فلسطین کے لیے بہت حمایت موجود ہے لیکن لوگ اسے اونچی آواز میں ظاہر کرنے سے کتراتے ہیں۔
واضح رہے کہ جیویر بارڈیم اور سوزن سیرینڈن کے علاوہ اداکارہ میلیسا بیریرا کو بھی اسرائیلی حکومت کے اقدامات کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹس کرنے پر مشہور فلم سیریز ‘اسکریم 7’ سے نکال دیا گیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


