اتوار, جولائی 19, 2026
اشتہار

ہو سکتا ہے ایران ڈیل میں کئی ماہ لگ جائیں، جے ڈی وینس

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (10 جون 2026): اگرچہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ دو سے تین دن میں معاہدہ ہو سکتا ہے، تاہم اب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاس بھی اس سوال کا واضح جواب نہیں ہے کہ ایران ڈیل دراصل کب ہوگی؟

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک ایسے معاہدے کے ’بہت قریب‘ ہے جو اس مسئلے کو ’طویل مدت‘ کے لیے حل کر دے گا، تاہم یہ معاہدہ اگلے ہفتے بھی ہو سکتا ہے یا پھر کئی ماہ بعد۔

وینس نے سی بی ایس سنڈے مارننگ میں نشر ہونے والے، رابرٹ کوسٹا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ’’اس وقت مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایسی پوزیشن میں ہیں جہاں ہم ایک ایسا معاہدہ حاصل کر سکتے ہیں جو معاشی طور پر امریکا کے لیے اچھا ہو اور جو واقعی ایرانی جوہری پروگرام سے نمٹے، صرف ابھی کے لیے نہیں، صرف اس وقت تک نہیں جب تک ڈونلڈ ٹرمپ صدر ہیں، بلکہ طویل مدت کے لیے، اس حد تک کہ جب میرے بچے بالغ ہوں تو وہ کہہ سکیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا ’’یہی اس پالیسی کا مقصد ہے۔ اور میرے خیال میں ہم اس مقصد کے حصول کے بہت قریب ہیں۔ لیکن ابھی کچھ کام باقی ہے۔ ہم اسے جاری رکھیں گے۔‘‘ وینس نے کہا کہ یہ معاہدہ نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن سے پہلے ’’یقینی طور پر‘‘ طے پا سکتا ہے۔


اپاچی ہیلی کاپٹر کے عملے کو آبنائے ہرمز میں کس نے بچایا؟


جے ڈی وینس نے کہا ’’میرے خیال میں وسط مدتی انتخابات سے پہلے ہمیں بہت کچھ معلوم ہو جائے گا۔ دیکھیے، میرے خیال میں معاہدہ اگلے ہفتے بھی ہو سکتا ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ معاہدہ کئی ماہ بعد ہو۔‘‘

یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کے لیے نسبتاً مختصر مدت کی نشان دہی کی تھی۔ انھوں نے منگل کی صبح کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں ہیں اور دو یا تین دن میں معاہدہ ممکن ہے۔ تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ ایرانیوں نے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے جو پیر کے روز آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا، اور انھوں نے عہد کیا کہ امریکا اس کا جواب دے گا۔

وینس نے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ ایرانی صدر ٹرمپ کو جان بوجھ کر ٹال مٹول کا شکار بنا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’ایک بار پھر، میرے خیال میں ایران کے نظام کو اتفاقِ رائے تک پہنچنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ لوگ مجھ سے ہمیشہ پوچھتے ہیں، کہ کیا آپ ایرانیوں پر اعتماد کرتے ہیں؟ اور صدر نے کہا ہے میں کسی پر اعتماد نہیں کرتا۔ میں کسی پر اعتماد نہیں کرتا۔ جس چیز پر مجھے اعتماد ہے وہ میری اپنی مذاکراتی صلاحیت ہے۔ مجھے اپنی انتظامیہ کی مذاکرات کرنے کی صلاحیت پر اعتماد ہے اور مجھے ان نفاذی اقدامات پر اعتماد ہے جو ہم نافذ کرنے جا رہے ہیں۔‘‘

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں