واشنگٹن (20 اپریل 2026): امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کے ممکنہ دورۂ پاکستان کے حوالے سے امریکی میڈیا میں متضاد رپورٹس سامنے آئی ہیں، جس سے صورت حال غیر واضح ہو گئی ہے۔
ابتدائی طور پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے نائب صدر کی روانگی سے متعلق اطلاعات جاری کی گئیں، جنھیں بعض امریکی میڈیا اداروں نے رپورٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جے ڈی وینس اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے یہ بیان سامنے آیا کہ نائب صدر اسلام آباد نہیں جا رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے مزید ابہام اس وقت پیدا ہوا جب یہ کہا گیا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے نائب ایک ہی وقت میں ایک ہی مقام پر موجود نہیں ہو سکتے۔ اطلاعات کے مطابق اگر صدر ٹرمپ خود اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں جے ڈی وینس کا دورہ منسوخ ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا، فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی شخصیات اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد میں ایرانی حکام کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔
امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا، ایرانی فوج کا جواب دینے کا اعلان
وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ امریکی وفد اسلام آباد پہنچنے والا ہے اور اس میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہو سکتے ہیں، جب کہ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق وینس ممکنہ طور پر خود سفر نہ کریں بلکہ پسِ منظر میں کردار ادا کریں۔
تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ جے ڈی وینس پاکستان جا کر ایران سے مذاکرات میں حصہ لیں گے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد میں اس سے پہلے ہونے والے مذاکرات (11–12 اپریل) کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے تھے، ایران نے نئی بات چیت میں شرکت سے ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے اور امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ جب کہ موجودہ جنگ بندی جلد ختم ہونے والی ہے، جس کی وجہ سے یہ دورہ انتہائی اہم ہو گیا ہے۔
جے ڈی وینس کے دورے پر ابھی بھی مکمل یکسوئی نہیں، تاہم امریکا ہر صورت اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے، اور پاکستان اس وقت امریکا-ایران سفارتکاری کا مرکزی مقام بن چکا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


