منگل, ستمبر 8, 2026
اشتہار

جیفری ایپسٹین کیس : برطانوی عوام کا حکومت سے بڑا مطالبہ

اشتہار

حیرت انگیز

لندن : جیفری ایپسٹین کیس کے متاثرین نے برطانوی وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ ایپسٹین کے برطانوی اشرافیہ سے تعلقات کی مکمل تحقیقات کے لیے عوامی انکوائری قائم کی جائے۔

برطانیہ کی ایپسٹین سروائیورز کمپین کے ارکان آنے والے مہینوں میں وزیراعظم سے ملاقات کریں گے، تقریباً ایک درجن متاثرین کی نمائندگی کرنے والی مہم کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز نے ایسے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ایپسٹین کی موت کے تقریباً 7 سال بعد اس اسکینڈل نے برطانوی اسٹیبلشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا جس کے نتیجے میں شاہ چارلس کے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اور امریکہ میں سابق برطانوی سفیر پیٹر مینڈیلسن کی گرفتاری عمل میں آئی۔

EPSTEIN FILES

متاثرین کے مطالبات

متاثرین کی نمائندگی کرنے والی بعض تنظیمیں طویل عرصے سے مطالبہ کرتی آرہی ہیں کہ ایپسٹین کے برطانیہ میں ممکنہ نیٹ ورک، بااثر شخصیات سے روابط اور مبینہ سہولت کاروں کے کردار کی آزادانہ اور شفاف عوامی تحقیقات کرائی جائیں۔

ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ صرف فوجداری تحقیقات کافی نہیں بلکہ ایک جامع عوامی تحقیقاتی کمیشن ہی اس سکینڈل کے تمام پہلوؤں کو سامنے لاسکتا ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر سفارشات مرتب کرسکتا ہے۔

متاثرین کے مطابق مجوزہ قومی انکوائری میں ایپسٹین کے برطانوی بااثر حلقوں سے تعلقات اس کے جرائم کو روکنے میں ممکنہ ناکامی اور ایسے افراد کے کردار کا جائزہ لیا جانا چاہیے جو مبینہ طور پر اس کے نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرتے رہے۔

Andrew Mountbatten-Windsor has always denied the allegations against him

مہم کے ترجمان نے کہا کہ جیفری ایپسٹین، پیٹر مینڈلسن اور اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سے متعلق ریکارڈز اور خط و کتابت، جن میں مالی معاملات اور ایپسٹین سے تعلقات کا ذکر بھی شامل ہے، مکمل شفافیت کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔

اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اور لارڈ مینڈلسن کو فروری میں سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں نے الزامات کی تردید کی اور بعد ازاں تحقیقات مکمل ہونے تک رہا کر دیے گئے۔

اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غلط کاری کی تردید کرتے رہے ہیں، جبکہ لارڈ مینڈلسن نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ایپسٹین سے تعلق بہت زیادہ عرصے تک برقرار رکھا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی مجرمانہ سرگرمی کا علم نہیں تھا۔

 Royal Family

متاثرین چاہتے ہیں کہ تحقیقات میں اس بات کا تعین کیا جائے کہ آیا برطانیہ کے بااثر افراد نے ایپسٹین کے عالمی جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو سہولت فراہم کی، اسے تحفظ دیا یا اسے روکنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مکمل عوامی انکوائری ایسی ہونی چاہیے جس کے پاس گواہوں کو طلب کرنے اور پیغامات و ای میلز تک رسائی حاصل کرنے کے اختیارات ہوں، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ایپسٹین کو برطانوی بااثر حلقوں تک اتنی رسائی کیسے ملی اور وہ اتنے عرصے تک جرائم سے کیسے بچتا رہا۔

متاثرین کی مہم نے امید ظاہر کی ہے کہ موجودہ حکومت اس معاملے میں شفافیت، احتساب اور انصاف کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں