The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ کا آج مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنےکا اعلان متوقع

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر آج مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنےکا اعلان کرسکتے ہیں‘ مسلم دنیا نے اس متوقع صورتحال پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارےکےمطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ آج مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا جاسکتا ہے تاہم صدر ٹرمپ فی الحال امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے منتقلی کا حکم نہیں دیں گے۔

یہ خبر امریکی صدر کے آج بروز بدھ ایک طے شدہ خطاب کے حوالے سے سامنے آئی ہے کہ ممکنہ طور پر اس خطاب میں اعلان کیا جائے گا۔ او آئی سی سمیت کئی ممالک اس معاملے پر پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔

گزشتہ روزوائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانےکی منتقلی کا فیصلہ موخر کردیا گیا ہے‘  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پرہمیشہ سے کلیئرہیں، وقت آنے پرفیصلہ کریں گے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کے دارالخلافہ کے طور پر قبول کرنے کا عندیہ دیا تھا جسے عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بھی بنایاجارہا ہے‘ ترکی کے صدر اردوغان نے اس معاملے پر دو ٹوک موقف اختیار کیا اور کہا تھا کہ اگر ایسا قدم اُٹھایا گیا تو امریکا کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا اور ترکی اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کردے گا۔

اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے امریکہ کے ممکنہ فیصلے پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے جدہ میں ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا ‘ اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ بیت المقدس کو متنازع طورپراسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو ایسے کسی بھی فیصلے کو عرب اور مسلم اقوام پر حملہ تصور کیا جائےگا۔

یاد رہے کہ تین روز قبل فلسطین کے صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کی امریکی خواہش خطے میں امن عامہ میں بگاڑ کا سبب بنے گی۔

دوسری جانب فرانسیسی صدرایمانوئل میکرون نےمقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کےممکنہ فیصلے کی مخالفت کردی‘ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکہ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے ممکنہ فیصلےپرتشویش ہے۔

یاد رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد الاقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے ‘ اسے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے دور میں اسے فتح کرکے اسلامی بلاد میں شامل کیا گیا تھااور مسلمانوں کے اس کے ساتھ دلی جذبات وابستہ ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں