(8 جنوری 2026): آئے دن لوٹ مار اور نو سربازوں کی کارروائیوں سے تنگ آ کر جیولرز شاپ سے متعلق بڑی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
جیولرز شاپس ڈاکوؤں، چوروں اور نو سربازوں کے لیے سونے کی دکان نہیں بلکہ سونے کان ثابت ہوتی ہیں، جہاں سے وہ با آسانی قیمتی زیورات منٹوں میں لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں۔
تاہم اب نو سربازوں سے بچنے کے لیے جیولرز شاپ میں برقعہ پہن کر جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ایسی خواتین جنہوں نے برقعہ پہنا یا نقاب لگا رکھا ہوگا وہ صرافوں کی دکان میں داخل یا خریداری نہیں کر سکیں گی۔
تاہم یہ پابندی بھارتی ریاست بہار میں لگائی گئی ہے۔ جہاں طلائی زیورات فروخت کرنے والوں کی دکانوں پر حجاب، برقع، نقاب، گھونگھٹ، ماسک اور ہیلمٹ پہن کر آنے والے افراد کو دکانوں میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پابندی کا یہ فیصلہ آل انڈیا جیولرز گولڈ اسمتھ فیڈریشن کی بہار اکائی نے دکانوں میں بڑھتی چوری اور لوٹ مار کی وارداتوں کے پیش نظر کیا ہے۔ اور کسی بھی شخص یا خاتون کو دکان میں داخل ہونے سے قبل اپنا چہرہ ظاہر کرنا ہوگا۔
جیولرز ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کی اطلاع مقامی پولیس انتظامیہ کو بھی دے دی گئی ہے اور پٹنہ سمیت کئی شہروں میں دکانوں کے باہر اس حوالے سے نوٹس آویزاں کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب جیولرز کے اس فیصلے کی ریاست کی مختلف سیاسی جماعتیں حمایت اور مخالفت کر رہی ہیں۔


