مسجد اقصیٰ کے تقدس کی پامالی، یہودی اور عیسائی ایک ہوگئے Masjid e Aqsa
The news is by your side.

Advertisement

مسجد اقصیٰ کے تقدس کی پامالی، یہودی اور عیسائی ایک ہوگئے

یروشلم : دنیا بھر میں بسنے والے انجیلی عیسائی ہزاروں کی تعداد یہودیوں کے مذہبی تہوار ’عرش‘ میں شرکت کرنے کے لیے مقبوضہ بیت المقدس پہنچنا شروع ہوگئے، اسرائیلی آباد کار مذہبی تہوار کے نام پر مسجد اقصیٰ کا تقدس پامال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیل 23 ستمبر سے شروع ہونے والے یہودیوں کے مذہبی تہوار میں شرکت کرنے کے لیے دنیا بھر سے پندرہ ہزار کے قریب انجیلی مسیحی مقبوضہ فلسطین کے شہر بیت المقدس پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ قابض اسرائیلی ریاست کے ستر برس پورے ہونے پر 100 ممالک کے انجیلی عسیائی بیت المقدس میں جمع ہورہے ہیں۔

فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ انجیلی عیسائیوں کی اتنی بڑی تعداد یہودیوں کے تہوار ’عرش‘ میں شرکت کرنے کے لیے جمع ہورہی ہے۔

انجیلی عیسائیوں کے اسرائیل میں موجود سفارت کار یورجن بولر کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والے انجیلی عیسائی اسرائیل کے حامی و مددگار ہیں، جو اسرائیل کی سیاسی، اخلاقی اور مالی امداد میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہودیوں کا مذہبی تہوار ’عرش‘ 23 ستمبر سے 27 ستمبر تک جاری رہے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں انجیلی عیسائیوں کی تعداد تقریباً ساٹھ کروڑ ہیں، جو غیر جانب دار ممالک میں کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

فلسطینی میڈیا کے مطابق سنہ 1980 میں انجیلی عیسائیوں نے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ قائم کیا تھا جب بہت سے ممالک سے اپنے سفارت خانوں کو بیت المقدس سے باہر منتقل کردیا تھا۔

خیال رہے کہ انجیلی عیسائیوں کے سفارت خانے ہیں جو دنیا کے 85 ممالک میں نمائندہ دفاتر اور 160 مملکتوں میں سرگرمیاں موجود ہیں۔

واضح رہے  کہ یہودی آباد کار آئے روز مذہبی رسومات کے نام پر حرم قدسی اور بیت المقدس کا تقدس پامال کرتے رہتے ہیں، فلسطینی میڈیا کے مطابق گذشتہ روز بھی اسرائیل شرپسندوں کی جانب اشتہار شائع کیا گیا تھا جس میں یہودیوں سے کہا گیا تھا کہ 23 ستمبر سے 27 ستمبر تک حرم قدسی میں موجود رہیں اور ’عرش‘ کی عبادات میں حصّہ لیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں