site
stats
اہم ترین

درگاہ فتح پور پر خودکش حملہ، جاں بحق افراد کی تعداد 21 ہوگئی

dargah fatehpur blast

جھل مگسی : بلوچستان کی معروف درگاہ فتح پور شریف میں عرس کے دوران خودکش حملے کے سبب کانسٹیبل سمیت 21 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے، پانچ افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔

تفصیلات کے مطابق جیکب آباد سے 200 کلومیٹر دور بلوچستان کے علاقے جھل مگسی میں قائم درگاہ فتح پور شریف میں ماہانہ میلے میں ہونے والے دھماکے میں کانسٹیبل بہارخان سمیت 21 افراد شہید ہوگئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کانسٹیبل بہارخان نے خودکش بمبارکوروکنے کی کوشش کی، بہارخان نے بھاگ کرخودکش بمبارکوقابوکرکے جام شہادت نوش کیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہید اہلکار نے 15روزپہلے ریٹائرمنٹ کی درخواست دی تھی۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ کے مطابق پولیس نے خودکش حملہ آور کو درگاہ کے اندر جانے سے روکا تو اس نے خودکو دھماکے سے اڑالیا جس کے نتیجے میں پولیس کانسٹیبل سمیت 20 افراد شہید ہوئے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کے مطابق پولیس نے خود کش حملہ آور کو درگاہ کے اندر جانے سے روکا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل شہید ہوا۔

Image result for dargah fatehpur sharif balochistan

پہلے سے اطلاعات تھیں کہ ایسا حملہ ہوگا، بلوچستان حکومت

ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا ہے کہ دھماکہ خود کش تھا جس میں ایک اے ایس آئی بھی شامل ہے، دشمن نے اس بار پھر معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا ہے، ہمیں پہلے سے اطلاعات تھیں کہ دشمن اس قسم کا حملہ کریں گے۔

حملہ خودکش تھا، وزیر داخلہ بلوچستان

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی حملہ خودکش ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ چیکنگ کے دوران بمبار نے خود کو اڑالیا۔

بی بی سی نے صوبائی وزیرِ داخلہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ درگاہ میں آج اہل تشیع مسلمانوں کی جانب سے ایک مجلس منعقد کی جانی تھی جس سے قبل ہی وہاں یہ دھماکہ ہوا ہے۔

سرفراز بگٹی نے مزید بتایا کہ عام طور پر اس درگاہ کی سکیورٹی کے لیے تقریباً 7 پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں لیکن آج یہاں 25 کے قریب سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گیے تھے۔

کمشنر نصیر آباد احمد عزیز تارڑ نے بتایا کہ دھماکے میں 18 افراد شہید اور 20 کے قریب زخمی ہوئے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

رات تک واقعے کا ایک اور زخمی دم توڑ گیا جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 19 ہوگئی۔

یاد رہے کہ اسی درگاہ میں سال 2005ء میں بھی ایک دھماکا ہوا تھا جس کے سبب 30 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top