جھنگ (9 جون 2026): مبینہ اغوا کے بعد جنسی زیادتی کا شکار ہونے کر انتقال کر جانے والی فرسٹ ایئر کی طالبہ ایشال فاطمہ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔
جھنگ پولیس نے کیس سے جڑے مزید دو ملزمان کو گرفتار کر لیا جن کی شناخت محمد حسن اور عمیس کے نام سے ہوئی جبکہ ایک سہولت کار لڑکی بھی حراست میں ہے۔ واضح رہے کہ مرکزی ملزم خلیل الرحمن پہلے ہی پولیس کی تحویل میں ہے۔
ڈی پی او جھنگ ساجد حسین کی ہدایت پر جدید تفتیشی ذرائع، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کو لاہور سے ٹریس کیا گیا۔ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی جھنگ سے قبضے میں لے لی گئی ہے۔
جھنگ پولیس نے بتایا کہ ایشال فاطمہ کے مبینہ اغوا کا مقدمہ پہلے ہی تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں درج تھا، ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ایشال فاطمہ اور مرکزی ملزم خلیل الرحمان ایک دوسرے کو جانتے تھے، جبکہ گرفتار ملزمان کے مطابق مقتولہ کی طبیعت خراب ہونے پر اسے علاج کیلیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ڈی پی او جھنگ ساجد حسین نے کہا کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور فرانزک و پوسٹ مارٹم رپورٹس سمیت تمام شواہد کی روشنی میں تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، مقدمے کو مکمل شفافیت اور میرٹ پر یکسو کیا جائے گا۔
پس منظر
پنجاب کے شہر جھنگ میں انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جہاں فرسٹ ایئر کی طالبہ ایشال فاطمہ مبینہ طور پر اغوا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد انتقال کر گئی۔
اے آر وائی نیوز نے ملزمان کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جس میں ملزمان مقتولہ کو تشویشناک حالت میں اسپتال چھوڑ کر موقع سے فرار ہوتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
ایشال فاطمہ کے اہلِ خانہ نے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف، کیس کی شفاف تفتیش اور ملوث تمام درندوں کو سرِعام عبرتناک سزا دینے کا زور مطالبہ کر رکھا ہے۔


