جھنگ میں طالبہ ایشال فاطمہ کی موت سے متعلق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈی ایچ کیو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی یا جسمانی تشدد کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالبہ کی موت کی حتمی وجہ کا تعین کرنے کے لیے ضروری نمونے فرانزک تجزیے کے لیے لاہور کی فرانزک لیبارٹری بھجوادیے گئے ہیں۔
ڈی ایچ کیو انتظامیہ کے مطابق فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کے بارے میں حتمی رائے دی جا سکے گی۔
یہ پڑھیں: ایشال فاطمہ مبینہ اغوا و زیادتی کیس میں بڑی پیشرفت
دوسری جانب واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
گزشتہ روز ڈی پی او جھنگ ساجد حسین نے کہا تھا کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور فرانزک و پوسٹ مارٹم رپورٹس سمیت تمام شواہد کی روشنی میں تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، مقدمے کو مکمل شفافیت اور میرٹ پر یکسو کیا جائے گا۔
ملزمان کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی تھی جس میں ملزمان مقتولہ کو تشویشناک حالت میں اسپتال چھوڑ کر موقع سے فرار ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔


