The news is by your side.

Advertisement

مجلس عمل کی بحالی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی حکومتی اتحاد چھوڑنے پر تیار

پشاور: جماعت اسلامی نے خیبرپختونخوا اور جمعیت علماء اسلام ف نے وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے کا عندیہ دے دیا۔

ذرائع کے مطابق جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ملک کی  موجودہ سیاسی صورتحال اور مذہبی جماعتوں کو متحدہ کر کے ایم ایم اے کو فعال کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان کی رہائش گاہ پرمتحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لیے اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی تنظیموں نے شرکت کی۔

اجلاس میں دیگر جماعتوں نے جماعت اسلامی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت سے علیحدہ ہوجائیں کیونکہ اتحاد کے لیے حکومت سے علیحدہ ہونا ضروری ہے۔

جماعت اسلامی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ مجلسِ عمل کی بحالی کے لیے خیبرپختونخواہ کی حکومت سے اتحاد ختم کرنے کو تیار ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کے سامنے بھی وفاقی حکومت سے علیحدگی کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔

اجلاس میں دینی جماعتوں کے متحدہ ہونے کے نکتے پر اتفاق اور تمام تحفظات دور کرنے پر زور دیا گیا جبکہ ماضی میں ایم ایم اے غیر فعال ہونے کی وجوہات بھی زیر غور آئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر چھوٹی مذہبی جماعتوں نے جمعیت علماء اسلام ف اور جماعت اسلامی پر مجلس عمل کو فعال کرنے کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں جماعتوں کے سیاسی اختلافات کی وجہ سے ہی ماضی کا اتحاد پارہ پارہ ہوا۔

ذرائع نے مزید کہا کہ فضل الرحمان اور جماعت اسلامی چند دنوں میں حکومتوں سے علیحدگی اختیار کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی اس وقت خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ اتحاد میں ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت مرکز میں مسلم لیگ ن کا ساتھ دے رہی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں