کراچی: جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے سامنے دھرنا -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی: جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے سامنے دھرنا

کراچی: جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے سامنے دھرنا دے دیا۔ دھرنے میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن بھی شریک ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی نے آج پھر کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گزری میں ہیڈ آفس کے سامنے دھرنا دے دیا۔

کے الیکٹرک کے خلاف دھرنے میں 3 بھینسیں بھی لائی گئی ہیں۔ بھینسوں کو وفاقی و صوبائی حکومت اور کے الیکٹرک سے تشبیہ دی گئی ہے۔

دوسری جانب کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کے دستے الرٹ کھڑے ہیں۔ پولیس کی جانب سے واٹر کینن بھی پہنچا دیا گیا۔

‘کے الیکٹرک حکومت کو خریدنے والا مافیا’

دھرنے کے لیے روانہ ہونے سے قبل امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کےالیکٹرک ایسا مافیا ہے جو حکومت کو ہی خرید چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کے چوروں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ عوام سے لوٹے گئے 62 ارب روپے واپس دلائے جائیں۔

نعیم الرحمٰن نے یقین دہانی کروائی کہ دھرنا پر امن ہوگا، تاہم اگر حکومت نے دھرنے کو روکنے کی کوشش کی تو ذمہ دار خود ہوگی۔ دھرنے کے دوران ٹریفک چلنے دیں گے، حکومت کو چاہیئے کہ متبادل ٹریفک پلان دے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 31 مارچ کو جماعت اسلامی نے شاہراہ فیصل پر کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر کے دھرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں: حافظ نعیم سمیت جماعت اسلامی کے کارکنان کی گرفتاری و رہائی

جماعت اسلامی کو احتجاج سے روکنے کے لیے اسلامیہ کالج کے نزدیک جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر ادارہ نور حق پر پولیس کی بھاری نفری تعینات اور ٹینکرز سے رکاوٹیں بھی کھڑی کر دی گئی تھیں۔

اس روز جماعت اسلامی کے رہنماﺅں اور کارکنوں کے دھرنے کے لیے نکلنے سے قبل ہی ادارہ نور حق کے باہر سے ایک نوجوان کو گرفتار کیا گیا اور جیسے ہی جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں کارکنوں نے پیش قدمی شروع کی تو پولیس نے حافظ نعیم الرحمٰن سمیت کئی کارکنوں کو پولیس موبائلوں میں ڈال کر بریگیڈ تھانے پہنچا دیا گیا تھا۔

گرفتاری کے بعد رہنماؤں کی اپیل پر کارکنان کی بڑی تعداد شاہراہ فیصل پر جمع ہوگئی تھی اور مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید تصادم ہوا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں