The news is by your side.

Advertisement

بجلی کی لوڈشیڈنگ اورپانی کی قلت کیخلاف جماعت اسلامی کا ہڑتال ختم کرنے کااعلان

کراچی : بجلی کی لوڈشیڈنگ اورپانی کی قلت کیخلاف جماعت اسلامی نے ہڑتال ختم کرنے کااعلان کردیا اور کہا کہ نماز جمعہ کے بعدتمام کاروباری مراکز کھل جائیں گے،سراج الحق کا کہنا تھا ہڑتال کراچی کواندھیروں سےنکالنے کے لیے کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت کیخلاف جماعت اسلامی نے ہڑتال ختم کردی، حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ تاجرنماز جمعہ کےبعد کاروبار کھول لیں۔

امیرجماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ کےالیکٹرک کی ناانصافی کیخلاف آوازاٹھائی ہے، حکومت کی سپورٹ کےالیکٹرک کوحاصل ہے ، بجلی اورپانی کےلئےجدوجہدکررہےہیں، تاجروں ٹرانسپورٹرزسےاپیل کی تھی آج ہڑتال کامیاب بنائیں، آج کراچی میں پرامن احتجاج کیاگیاہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ کراچی میں پہلےبندوق پرہڑتالیں ہوتی تھی ، پولیس نےہمارےکارکنان کوحراست میں لیاہے، کارکنان کونہیں چھوڑا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرینگے اور واٹربورڈ کے ہیڈآفس پر بھی دھرنادیں گے۔


مزید پڑھیں  : بجلی کی لوڈشیڈنگ اورپانی کی قلت کےخلاف جماعت اسلامی کی ہڑتال


کراچی میں بجلی اور پانی کی قلت کیخلاف جماعت اسلامی کی جزوی ہڑتال ہوئی ، ہڑتال کی کال پر مختلف علاقوں میں صبح سے ہی دکانیں بند رہیں، کارکنان نےملیر کالابورڈ پر دھرنا دیا ، جس کے باعث سڑک کے دونوں ٹریک بند ہوگئے۔ نیٹ بنارس میں بھی جماعت اسلامی کے کارکنان نے جم کر احتجاج کیا جبکہ سائٹ میٹروول، نارتھ کراچی، دہلی کالونی، اورنگی اور کورنگی میں بھی مظاہرے نیٹ مختلف علاقوں میں مظاہرین نے ٹائر جلاکر سڑک بلاک کردیں اور کےالیکٹرک کےخلاف خوب نعرے لگائے۔

کراچی چیمبرآف کامرس اور آل سٹی تاجر اتحاد نےہڑتال سے لاتعلقی کااعلان کیا تھا۔

گورنر سندھ نے امن و امان برقرار رکھنے کیلئےپولیس رینجرز کی موجودگی کا اعلان کیا تھا۔ انکا کہنا تھا دس منٹ میں بند ہونے والا شہر اب دس ماہ میں بھی بند نہیں ہوسکتا۔

خیال رہے کہ جماعت اسلامی نے 27 اپریل کو کراچی میں پانی کی عدم فراہمی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیرحافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جب تک کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا چین سے نہیں بیٹھیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں