پیر, جون 8, 2026
اشتہار

امیر جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : امیر جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کےخلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرلیا، جس میں استدعا کی گئی کہ پیٹرولیم لیوی کوٹیکس قرار دیتے ہوئے آئین سے متصادم ہونے پر کالعدم قرار دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ملک بھر میں نافذ پیٹرولیم لیوی نظام اور حال ہی میں متعارف کروائی گئی "کلائمیٹ سپورٹ لیوی” کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔

ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی آئینی درخواست میں فنانس ایکٹ 2025 کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست کے متن میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی آئینِ پاکستان، پارلیمانی بالادستی، وفاقی نظام اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے سراسر خلاف ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اب کوئی محدود ریگولیٹری سرچارج نہیں رہی، بلکہ یہ وفاقی حکومت کے لیے عوام کے استحصال اور سب سے بڑے ریونیو کے ذریعے میں تبدیل ہو چکی ہے، جسے پارلیمنٹ کے بجائے مسلسل ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

درخواست میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ اس وقت پیٹرول پر لیوی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی تقریباً 117.41 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جو پیٹرول کی بنیادی ایکس ریفائنری قیمت کا 43 فیصد بنتی ہے۔

دائر درخواست میں کہا گیا کہ فنانس ایکٹ 2025 کے تحت حکومت نے لیوی پر سے قانونی حد ختم کر کے ایگزیکٹو کو غیر محدود اختیارات دے دیے ہیں، مالی سال 26-2025 کے دوران اس مد میں 1.47 ٹریلین (14 کھرب 70 ارب) روپے وصول کیے جانے کا تخمینہ ہے، جبکہ مجموعی وصولیاں اب تک 6.3 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کے باعث مہنگائی اور روزمرہ زندگی کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے درخواست میں اعتراض اٹھایا کہ ماحولیاتی تحفظ کے نام پر ‘کلائمیٹ سپورٹ لیوی’ تو نافذ کر دی گئی، لیکن نہ تو کوئی کلائمیٹ فنڈ بنایا گیا اور نہ ہی اس کے استعمال کا کوئی جوابدہی کا نظام موجود ہے۔ یہ عوام سے جبری طور پر وصول کی جانے والی رقم ہے جس کے بدلے انہیں کوئی مخصوص خدمت یا فائدہ نہیں دیا جاتا۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی آئینی عدالت عوام کو اس معاشی استحصال سے نجات دلانے کے لیے فنانس ایکٹ 2025 کی دفعہ 3 اور غیر محدود ایگزیکٹو اختیارات کو آئین سے متصادم قرار دے، پیٹرولیم لیوی پر پارلیمانی نگرانی بحال کی جائے، اور حکومت کو اب تک وصول کی گئی لیوی کے مصرف اور استعمال کی تمام تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں