منگل, اگست 18, 2026
اشتہار

جماعت اسلامی نے آزاد کشمیر کے معاملے پر امن جرگہ تشکیل دے دیا

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (14 جولائی 2026): جماعت اسلامی پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کی موجود صورتحال پر امن جرگہ تشکیل دے دیا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی طرف سے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کشمیر کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں امن جرگہ تشکیل دیا گیا۔

امن جرگہ وزیر اعظم، صدر مملکت، پاکستانی ریاستی مقتدر شخصیات، آزاد جموں و کشمیر حکومت، سیاسی جماعتوں، دینی قیادت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے ملاقاتیں اور رابطے کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایکشن کمیٹی سے بات کی، سب کا اتفاق ہے کشمیر پر مذاکرات کو موقع ملنا چاہیے‘

تشکیل دیے گئے امن جرگے میں امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے سابق امراء عبدالرشید ترابی، ڈاکٹر خالد محمود خان، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی آزاد کشمیر جہانگیر خان، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصر اللہ رندھاوا، صدر تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی، سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، سابق وزیر فرزانہ یعقوب، جاوید مقبول بٹ، خواجہ سلیم بسمل، سلیم گردیزی، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزاد کشمیر راجہ آفتاب، صدر آزاد کشمیر چیمبر آف کامرس عمر شہزاد جرال، سابق چیف جسٹس (ر) سید منظور گیلانی، سابق جسٹس سردار عبدالحمید، سینیئر صحافی زاہد تبسم، عارف بہار، بریگیڈیئر (ر) الطاف، نائلہ الطاف کیانی، سردار فاروق تبسم، مولانا سید عطا اللہ شاہ اور مولانا امتیاز صدیقی صدر ملی یکجہتی کونسل آزاد کشمیر شامل ہیں۔

اس موقع پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ ڈیڈلاک کی وجہ سے قضیہ کشمیر کو نقصان پہنچ رہا ہے، ہماری اپیل ہے کہ مذاکرات اور امن کا راستہ اپنایا جائے، اور تحریک آزادی کشمیر کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی فریق انا اور ہٹ دھرمی نہ دکھائے۔

لیاقت بلوچ انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کو پرامن رکھنا احتجاج کرنے والوں کی ذمہ داری ہے اور ریاست بھی ایسا ماحول نہ بنائے جس سے احتجاج پر تشدد بنے، دونوں جانب سے طاقت کا استعمال اور انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی قابل افسوس ہے، پرامن مذاکرات ہی اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور ریاستی ادارے بااختیار ہیں وہ اس مسئلے کا خود حل تلاش کریں جبکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت بشمول اپوزیشن اپنے آپ کو اس مسئلے سے لاتعلق نہ کریں اور امن و انسانی جانوں کو بچانے کیلیے آگے بڑھیں۔

رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت جن مطالبات کو پہلے تسلیم کر چکی ہے انہی پر بات چیت کا آغاز کرے، انتخابات عوام کا حق اور آزاد کشمیر کے جمہوری کردار کیلیے اہم ہیں، بروقت شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کروا کے آزاد کشمیر کے عوام کا مینڈیٹ تسلیم کیا جائے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں