ہفتہ, مارچ 14, 2026
اشتہار

جماعت اسلامی قانون سے بالاتر نہیں کہ اپنی مرضی چلائے، شرجیل میمن

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (14 فروری 2026): سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی قانون سے بالاتر نہیں کہ اپنی مرضی چلائے۔

شرجیل میمن نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنے کے دوران پولیس سے چھڑپوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ جماعت اسلامی کے ذمہ داران سے رابطے میں تھے، سیاسی جماعت کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ریڈ زون میں داخل نہ ہوں لیکن ان کے کارکن داخل ہوئے، کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور اسمبلی میں گھسنے کی کوشش کی جس پر پولیس کو مجبوراً آنسو گیس کی شیلنگ اور گرفتاریاں کرنی پڑیں۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کی سندھ اسمبلی پہنچنے کی کوشش، پولیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ ہے جماعت اسلامی نے قانون کی خلاف ورزی کی، پولیس اس لیے نہیں بیٹھی کہ جو چاہیے اہلکاروں پر آکر پتھراؤ کرے، ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ سندھ اسمبلی میں گھسنے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سے طے ہوا تھا ریڈ زون اور اسمبلی نہیں آئے گی، سندھ اسمبلی کا تقدس پامال اور پولیس پر پتھراؤ کی اجازت کسی کو نہیں، منعم ظفر کون ہوتے ہیں کہ قانون کو ہاتھ میں لیں، احتجاج کرنے ہیں تو گراؤنڈ موجود ہیں وہیں احتجاج کریں، جماعت اسلامی کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں، سڑکیں بند ہونے سے عام شہری متاثر ہوتا ہے۔

’جماعت اسلامی قانون سے بالاتر نہیں کہ اپنی مرضی چلائے۔ حکومت مذاکرات کرے گی لیکن وہ اپنا طرز عمل دیکھے۔ ان کی ہمیشہ انتشار کی سیاست رہی ہے اور فتنہ پھیلا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کی انتشار کی سیاست رہی ہے اور اب یہی کر رہی ہے، ان کو بتا دیا تھا کہ ریڈ لائن کیا ہے لیکن انہوں نے فتنہ پھیلانا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے کراچی کے 8 ٹاؤنز کا برا حشر کر دیا ہے، اس کو فتنہ پھیلانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں