پیر, جون 8, 2026
اشتہار

جب گھوڑا گاڑی میں سوار جگر صاحب حادثے میں زخمی ہوئے

اشتہار

حیرت انگیز

اردو ادب میں مظہر امام کا ایک امتیاز تو ان کی شاعری ہے لیکن ادبی دنیا میں وہ اپنی تنقیدی مضامین اور نثر نگاری کی وجہ سے بھی پہچانے گئے۔ ان کے تحریر کردہ ادبی تذکرے، یادداشتیں اور شخصی خاکے بہت پسند کیے گئے۔

بیسویں صدی کے مشہور شاعر جگرؔ مراد آبادی 1953ء میں کلکتے گئے تھے جہاں مظہر امام ان سے پہلی مرتبہ ملے اور جگر صاحب کی رفاقت میں کچھ وقت بھی گزارا۔ بعد میں مظہر امام نے ایک مضمون سپردِ‌ قلم کیا جس میں اقبال اکرامی کی زبانی کلکتے میں جگر صاحب کو حادثے کا قصّہ بھی لکھا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

کلکتہ میں جگرؔ صاحب کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ ایک دن گھوڑا گاڑی پر سیر کرنے نکلے۔ سوئے اتفاق کہ لاری سے گاڑی کی ٹکرّ ہوگئی۔ جگرؔ صاحب زخمی ہوگئے۔

میں اور پرویز شاہدی ان کی عیادت کو گئے۔ تھوری دیر میں اشکؔ امرتسری اور اقبالؔ اکرامی بھی آپہنچے۔ مؤخرالذکر آج کل روزانہ ‘’امروز’’ کلکتہ کے اڈیٹر ہیں، ان دنوں روزانہ ‘‘آزاد ہند’’ میں ‘‘نمک پاش سلمہٗ’’ کے نام سے فکاہیہ کالم لکھا کرتے تھے۔ اس ملاقات کی تفصیل ان کی زبانی سنیے جو ۲۷ اپریل ۵۳ء کے روزانہ ‘‘آزاد ہند’’ کلکتہ میں شائع ہوئی تھی:

‘‘آج کل حضرت جگرؔ مراد آبادی کلکتہ آئے ہوئے ہیں، تین دن ہوئے کہ بیچارے ایک حادثے کا شکار ہوگئے۔ گھوڑا گاڑی پر ‘لب دریا کے کنارے کنارے’ تفریح فرماتے چلے آرہے تھے کہ پیچھے سے ایک ظالم لاری نے ٹکر مار دی۔ جگر صاحب شاعر تو بہت بڑے ہیں مگر جسامت کے لحاظ سے واجبی ہیں، لہٰذا گھوڑے گاڑی کو الوداع کہنے پر مجبور ہوئے اور بغیر اپنی خواہش یا مرضی کے نیچے آگئے۔ اس حادثے کی خبر سن کر جہاں کلکتہ کے دوسرے ادیب آپ کی مزاج پرسی کے لیے گئے، پرویز شاہدی اینڈ کمپنی کے ساتھ، خاکسار بھی پہنچا۔ وہاں پہنچ کر کوئی خاص بات نہیں معلوم ہوئی جب تک کہ پرویزؔ صاحب کی پرسشِ مزاج پر جگرؔ صاحب نے اپنا شکم مبارک کھول کر نہیں دکھایا۔

جسم سے قمیص کا ہٹنا تھا کہ ہمیں بڑی کوفت ہوئی۔ ایک نازک مزاج شاعر اس وقت روحانی کرب میں مبتلا تھا۔ مگر واہ رے اخلاق کہ جگر صاحب ہم لوگوں کے ساتھ ہنستے رہے، باتیں کرتے رہے، آپ نے اخلاقاً ایک عدد غزل بھی سنائی۔

جگر صاحب کی دنیا بدل چکی ہے۔ زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر پہلے ‘‘بنتی نہیں تھی بادۂ و ساغر کہے بغیر’’ تو اب گفتگو کے وقت زبان سے تصوف اور معرفت کے بیان ہوتے ہیں۔ اثنائے گفتگو میں جوشؔ ملیح آبادی صاحب کا ذکر آگیا تو آپ نے کہا کہ انہیں ملحد سمجھنے والے احمق ہیں۔ جوشؔ پکے مسلمان ہیں۔ جو کچھ لکھتے ہیں اصلاح کی غرض سے۔ پرویزؔ صاحب سے کچھ سیاسی رنگ میں بھی گفتگو ہوئی۔ مگر ہمیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ جگرؔ صاحب سیاست کے مسئلے بھی تصوف سے حل کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ کمیونزم کو بھی آپ نے مذہبی نقطۂ نظر سے حل کر دیا۔ اور ہمارے دل نے کہا کہ چلو قصہ ختم ہوا۔ ہندستان کے سب سے بڑے غزل گو شاعر کے اس ارشاد کے بعد کون ہے جو کمیونسٹوں کو لامذہب کہے! دیکھا چاہیے اسلام کے نام نہاد علم بردار جگرؔ صاحب پر کب کفر کا فتویٰ دے کر سنگ باری کی د فعہ لاگو کرتے ہیں؟

مگر ہمیں پریشانی اس وقت ہوئی جب پرویزؔ شاہدی، اشکؔ امرتسری اور مظہرؔ امام جیسے شاعر ان شیریں کلام کے ہوتے ہوئے جگرؔ صاحب کی نظرِ التفات اس خاکسار پر پڑنے لگی، اور لگے کچھ کلام سنانے کی فرمائش کرنے۔ بھلا ہمارے ایسے غیرمہذّب انسان کو کلام سے کیا واسطہ، اور جہاں اس قدر اہلِ علم حضرات جمع ہوں، وہاں بدکلامی تو ہو ہی نہیں سکتی، لہٰذا ہم نے گھڑی دیکھی اور نماز جمعہ کا عذر کر کے وہاں سے چلتے پھرتے نظر آئے۔ یہ معلوم نہیں کہ ہماری تشریف آوری کے بعد دوسرے شاعروں پر کیا گزری۔ آیا انھوں نے اپنا کلام بلاغت نظام سنایا یا ہماری ہی طرح ہکلاتے ہوئے وہ بھی بھاگے۔’’

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں