جنوں کے شر سے بچنے کا اسلامی طریقہ -
The news is by your side.

Advertisement

جنوں کے شر سے بچنے کا اسلامی طریقہ

دنیا میں بہت سے لوگ غیر ماورائی اور مافوق الفطرت مخلوقات جیسے جن وغیرہ پر یقین رکھتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ مخلوقات ان پر قابض ہوسکتی ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ دنیا میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد بھی ہے جو کہ یقین رکھتے ہیں کہ دنیا میں جن ‘ بھوت نام کی کوئی مخلوق اپنا وجود نہیں رکھتی۔

جہاں تک مذہب کی بات ہے اسلام جنوں کی موجودگی کا اقرار کرتا ہے اور اللہ تعالی نے اپنی کتاب’قرآن ِ کریم ‘ میں جا بجا جنوں کا ذکر کیا ہے اور سورۂ جن کے نام سے ایک مکمل سورہ نازل کیا ہے۔


 ہاں میں جادوگر ہوں


اکثر لوگ اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ آخر جن کیوں کسی انسانی جسم میں حلول کرنا چاہے گا تو اس کے لیے علما ء نے تین وجوہات بتائیں ہیں جن کے ذریعے سے جن کسی بھی جسم میں داخل ہوسکتا ہے یا اس کے دماغ پر قابض ہوسکتا ہے۔

آپ جن کو اچھے نہیں لگے


انسانوں کی طرح جن بھی جذبات رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انہیں پسند نا پسند کااختیار بھی ہے۔ اگر یہ ان کے لیے غلط اور گناہ بھی ہےتو اکثر اوقات وہ اس کی پروا نہیں کرتے ۔ اب اگر جن کو آپ کی شکل یا رویہ پسند نہ آئے تو وہ آپ کے اندر حلول کرسکتا ہے۔

جن انسانوں پر عاشق ہوجاتے ہیں


جذبات کی موجودگی کے سبب جنوں میں یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ وہ کسی انسان پر عاشق ہوجائیں‘ عموماًاس قسم کے واقعات ایسے وقت میں پیش آتے ہیں جب انسان برہنہ ہو ‘ اور اسی لیے احادیث میں حکم دیا گیا ہے کہ لباس اتارنے سے پہلے بسم اللہ ضرور پڑھی جائے۔

غیر ارادی نقصان


کیوں کہ انسان اپنی آنکھ سے جنوں کو نہیں دیکھ سکتے تو بعض اوقات وہ جنوں کو غیر ارادی طور پر نقصان پہنچا بیٹھتے ہیں جیسا کہ فرش پر گرم پانی ڈال دیا ‘ یا کہیں کوئی چیز پھینکی اور وہ جن کو لگ گئی جس کے سبب انسان ان کے انتقام کانشانہ بنتے ہیں‘ ایسی کسی نامساعد صورتِ حال سے بچنے کے لیے حکم دیا گیا ہے کہ کوئی بھی کام کرنے سے قبل بسم اللہ ضرور پڑھی جائے۔

کیا جن کسی کے بھی جسم میں داخل ہوسکتا ہے؟


یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جن ایسے ہی کسی بھی انسان کے جسم میں حلول نہیں کرسکتا بلکہ اس کے لئے کچھ مخصوص صورتحال ہوتی ہیں جن میں کسی بھی خبیث جن کو انسانی جسم میں حلول کرنے کا موقع مل جاتا ہے ۔

جب کوئی انسان شدید غصے کی حالت میں ہو تو ایسے وقت میں جن انسان کے جسم میں داخل ہوسکتا ہے‘ اسی لیے غصے کی حالت میں شیطان پر لاحول پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ شریر جنوں کے شر سے بچا جاسکے۔

بے پناہ خوف بھی ایک ایسی حالت ہے جو انسان کو اندر سے کمزور کردیتی ہے اور ایسی کسی صورت میں جنوں کو انسانی جسم میں سرائیت کرجانے کا موقع مل جاتا ہے‘ لہذا خوف پر قابو رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

جب انسان غفلت کی حالت میں ہو اور اپنے معاملات پر توجہ نہ دے رہا ہوتو یہ بھی ایک بہترین صورتحال ہوتی ہے کہ جن قالبِ انسانی میں اپنی جگہ بنا لے۔

شہوت کی انتہا بھی انسانی جسم میں جنوں کے راستے کا ذریعہ بنتی ہے بالخصوص جب انسان کسی غیر اخلاقی شہوت میں مبتلا ہوں اور ان کی ساری توجہ اسی جانب مبذول ہو۔

یہ وہ حالات ہیں جن میں کوئی بھی جن کسی انسان کے جسم پر قابض ہوسکتاہے یا اسے نقصان پہنچا سکتا ہے اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ ان معاملات میں احتیاط کی جائے اور کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ ضرور پڑھی جائے تاکہ ہم جنو ں کے شر سے محفوظ رہیں۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں