The news is by your side.

Advertisement

پشاورخودکش دھماکے کی تحقیقات کے لئے جےآئی ٹی قائم

پشاور: یکہ توت خودکش دھماکے کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی قائم کردی گئی جبکہ پشاور پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران سے 30 سے 40 مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یکہ توت میں اے این پی انتخابی مہم میں خودکش حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے متحرک ہوگئے، آئی جی خیبرپختونخوا نے حملہ کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی قائم کردی۔

ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، سات افراد پر مشتمل کمیٹی پانچ دن میں سینٹرل پولیس آفس کو رپورٹ ارسال کرے گی۔

اسپیشل کومبیٹ یونٹس کو سرچ آپریشنز کی ہدایت کردی گئی ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز پشاور جاوید اقبال نے بتایا کہ پشاور حملے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ تیس سے چالیس مشکوک افراد کوحراست میں لیا گیا ہے۔

ایس ایس پی آپریشن کا کہنا تھا کہ بلور خاندان کو خصوصی طور پر دو سیکیورٹی گارڈز فراہم کئے گئے تھے، اس حملے کے بعد پشاور میں سیکیورٹی پلان
مزید سخت کیا جائے گا۔

دوسری جانب پشاور خودکش حملے کے بعد شہر کی فضا سوگوار ہے، حملے کے دس شہداء کو سپرد خاک کردیا گیا ، شہدا کی نمازجنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک تھیں۔


مزید پڑھیں : پشاور: اے این پی کی کارنر میٹنگ میں خودکش دھماکا، ہارون بلورسمیت 13 شہید


خودکش دھماکہ میں شہید ہونے والے اے این پی کے رہنما اور پی کے اٹہتر کے امیدوار ہارون بلور کے گھرتعزیت کیلئے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے، ہارون بلور شہید کے بیٹے دانیال بلور کا کہنا ہے کہ اے این پی کے کارکن حوصلہ نہ ہاریں، وطن کو ضرورت پڑی تو وہ بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ قربانی دینے کو تیار ہیں۔

گزشتہ شب یکہ توت میں این اے پی کی کارنر میٹںگ پر خودکش حملہ میں ہارون بلورسمیت اکیس افراد شہید ہوئے تھے، ہارون بلورمرحوم بشیر بلورکےبڑے صاحبزادے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں