جےآئی ٹی کا نوازشریف کےخلاف ریفرنس دائرکرنےکی سفارش jit
The news is by your side.

Advertisement

جےآئی ٹی کی شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سفارش

اسلام آباد : جے آئی ٹی نے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کردی ہے اور کہا ہے کہ شریف خاندان اپنے ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہا۔

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی آف شور کمپنیوں کے قیام اور لندن فلیٹس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جےآئی ٹی نے آج اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی جس میں وزیراعظم نواز شریف ، مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

شریف خاندان کا رہن سہن آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا 


اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے بیورو چیف صابر شاکر کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شریف خاندان کے طرز زندگی اور معلوم آمدن میں مطابقت نہیں ہے اور ان کے معلوم آمدنی اور اثاثوں میں بھی فرق ہے جب کہ شریف خاندان اپنی طرززندگی کے مطابق آمدن کے ذرائع بتانے میں ناکام رہا۔

نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیاں مریم نواز ہیں 


جے آئی ٹی میں کہا گیا کہ اس بات کے بھی ثبوت ملے ہیں کہ نیلسن و نیسکول کی بینفشری ملکیت مریم نواز کے پاس ہے جب کہ وزیراعظم نواز شریف کے پاس ایف زیڈ ای کیپٹل کے چیئرمین شپ ہیں اس طرح ثابت ہو گیا ہے کہ آف شور کمپنیاں نیسکول، نیلسن، الانہ، لمکن اور ہل ٹرن نامی کمپنیاں شریف خاندان سےمنسلک ہیں۔

مریم نوازمجرمانہ فعل کی مرتکب ہوئیں 


جےآئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز نے جےآئی ٹی رپورٹ میں جعلی کاغذات جمع کرائے جس پر حسین نواز، کیپٹن(ر)صفدر اور مریم نواز کے دستخط موجود ہیں اور جو جعلی اورگمراہ کن ہیں چنانچہ دستاویزات دینے والے حسن نواز و مریم نواز بظاہر جے آئی ٹی کو گمراہ کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں چونکہ جعلی کاغذات جمع کرانا ایک مجرمانہ فعل ہے اس لیے بینچ مناسب جانے تو ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے۔

فرضی دستاویزات جمع کرائے گئے 


جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیکلریشن آف ٹرسٹ سے متعلق جعلی رپورٹس جمع کرائی گئیں ہیں جب کہ خرید و فروخت سے متعلق بھی فرضی دستاویزات جمع کراکر جے آئی ٹی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں اسٹیل مل کے قیام سے متعلق طارق شفیع کے دعوؤں کی تردید میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے فراہم کی گئی سرکاری دستاویزات بھی منسلک کی گئی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم کے کزن دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔

ال آحلی اسٹیل ملز کا معاہدہ جعلی ہے 


جےآئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ ال آحلی اسٹیل کی فروخت کامعاہدہ جعلی ہے اس سلسلے میں 1980 میں ال آحلی اسٹیل کے 25 فیصدشیئرزکی فروخت کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اسی طرح2001-2002 میں دبئی سے جدہ کسی بھی قسم کی مشینری نہیں بھیجی گئی چنانچہ ال آحلی اسٹیل کے 25 فیصد شیئرز فروخت ہوئے نہ رقم کہیں گئی۔

جےآئی ٹی رپورٹ کے مطابق طارق شفیع کی جانب سے ایک کروڑ 20 لاکھ درہم کبھی قطر نہیں بھیجے گئے اس حوالے سے طارق شفیع کی جانب سے 1978 سے1980 میں قطر رقم بھیجنےکا ریکارڈ غلط اور فرضی ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے جمع کرائی گئی منی ٹریل جعلی ثابت ہوگئی ہے۔

رقوم کی ترسیل میں بے قاعدگیاں پائی گئی 


جے آئی ٹی کے مطابق برطانیہ میں فلیٹ کی خریداری ہو یا یواے ای میں اسٹیل ملز لگانی ہو ان کے لیے بھاری رقوم کی ترسیل میں بھی بے قاعدگی پائی گئی اور ان کمپنیوں نے سعودی عرب میں اسٹیل ملز لگانے کے لیے بھی بڑے قرضے حاصل کیے اور سعودی عرب سے شریف خاندان کو قیمتی تحائف بھی ملے۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ کے متن میں کہا گیا ہے کہ نیسکول، نیلس، الانہ، لمکن اور ہل ٹرن نامی کمپنیاں شریف خاندان سے منسلک ہیں ان کمپنیز کے ذریعے رقوم کی ترسیل میں بے قاعدگی پائی گئی۔

آف شور کمپنیوں کو رقوم کی ترسیل میں استعمال کیا گیا 


جے آئی ٹی میں کہا گیا ہے کہ آف شورکمپنیوں کا کردار بہت اہم ہے اور انہی آف شور کمپنیوں کو برطانیہ رقوم منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جس کے ذریعے سے برطانیہ میں جائیدادیں خریدی گئیں۔

اسحاق ڈار کے اثاثہ جات میں ہوشربا اضافہ ہوا 


پاناما جے آئی ٹی رپورٹ میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اثاثہ جات میں 2008 سے ہوشربا اضافہ ہوا ہے جب کہ انہوں نے آمدن کےذرائع بھی ظاہر نہیں کیے جب کہ ان کے اسحا ق ڈار کے ظاہر شدہ اثاثوں اور موجودہ آمدن میں فرق پایا گیا ہے اس لیے اسحاق ڈار نے اثاثوں کی تفصیلات میں بد دیانتی کی ہے اور اسحاق ڈار نے 55 لاکھ پاؤنڈ براق ہولڈنگز یواےای میں سرمایہ کاری ظاہرکی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 17 کروڑ روپے خیرات میں اپنے ہی ادارے کو دیئے جس کا کنٹرول بھی خود انہی کے ہاتھوں میں ہے حالانکہ خیراتی رقم کوٹیکس استثنیٰ تھا چنانچہ بظاہراسحاق ڈارٹیکس چوری کے مرتکب ہوئے ہیں۔

نیب آرڈیننس سیکشن 9 کے تحت کارروائی کی سفارش 


جے ٓئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درج بالا ثبوت اس بات کے متقاضی ہیں کہ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے خلاف  نیب آرڈیننس سیکشن 9 اے وی کےتحت کرپشن اور بدعنوانی کے جرم میں ریفرنس دائر کیا جائے کیوں کہ یہ معاملہ نیب آرڈیننس کے مذکورہ سیکشن کے ذمرے میں آتا ہے۔

قطری شہزادے سمیت 28 گواہان کو طلب کیا گیا 


جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطری شہزادے حمد بن جاسم سمیت 28 گواہان بار بار بلانے پر  5 افراد جےآئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے جن میں قطری شہزادہ حمد بن جاسم، حدیبیہ مل کیس اور ہل میٹل منی ٹرانزیکشن کے شیخ سعید، اسحاق ڈارکی اہلیہ کے بھتیجے موسیٰ غنی اور حدیبیہ ملزکیس کے مرکزی گواہ کاشف مسعود قاضی شامل ہیں۔

پاناما کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ 


سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما پیپرز میں وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے نام آنے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے 20 اپریل 2017 کو 547 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے خلاف آف شور کمپنیوں اور اثاثہ جات کی تحقیقات کے لیے 6 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔

سپریم کورٹ کے بینچ کے دو ارکان نے وزیراعظم کو نا اہل جب کہ تین نے کہا تھا کہ مدعی وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے صادق اور امین نہ ہونے کے ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے چنانچہ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے اثاثہ جات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔

 لارجر بنچ میں سے دوججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اورجسٹس اعجاز افضل نے وزیراعظم کو صادق اور امین کی صف سے باہر کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دیا تاہم جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس عظمت سعید شیخ اورجسٹس گلزار نے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف جے آئی ٹی کے تحت تحقیقات کا حکم دیا۔

جے آئی ٹی کی تشکیل 


خیال رہے کہ 5 مئی کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں تحقیقات کے لیے چھ رکنی جے آٗی ٹی تشکیل دی گئی تھی جسے دو ماہ کےاندر اندر اپنی مفصل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانی تھی جس کی تعمیل کرتے ہوئے آج جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز سے کی گئی تحقیقات کی روشنی میں تیار کی گئی 256 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ جمع کرادی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کی سربراہی ایف آئی اے کے واجد ضیاء کر رہے تھے جب کہ اراکین میں اسٹیٹ بینک سے عامر عزیز، نیب سے عرفان نعیم منگی، ایس ای سی پی سے بلال رسول، آئی ایس آئی سے بریگیڈیئر محمد نعمان سعید، ایم آئی سے بریگیڈیئر کامران خورشید بھی جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔

اسی طرح فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کو جےآئی ٹی کاسیکریٹریٹ مقرر کیا گیا تھا اور عدالت عظمیٰ کی جانب سے تشکیل دی گئی  جے آئی ٹی کو ہر 15 روز بعد رپورٹ بینچ کو پیش کرنے اور 60 دن میں تحقیقات مکمل کرنے کی پابند تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں