پاناما تحقیقات: جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی JIT Set for Panama
The news is by your side.

Advertisement

پاناما تحقیقات: جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی

اسلام آباد: پاناما کیس کی مزید تحقیقات کےلیے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دیتے ہوئے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، آئی ایس آئی، ایم آئی، اسٹیٹ بینک، نیب اور ایس ای سی پی کے افسران جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کی سربراہی ایف آئی اے کے واجد ضیاء کو دی گئی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک سے عامر عزیز کو جے آئی ٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

تحریری حکم نامے کے مطابق نیب سے عرفان نعیم منگی، ایس ای سی پی سے بلال رسول، آئی ایس آئی سے بریگیڈیئر محمد نعمان سعید، ایم آئی سے بریگیڈیئر کامران خورشید بھی جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔

سپریم کورٹ کے حکم نامے کے مطابق وفاقی  حکومت جے آئی ٹی کو تمام فنڈز فراہم کرے گی اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کو جےآئی ٹی کاسیکریٹریٹ مقرر کیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے تشکیل دی گئی  جے آئی ٹی ہر 15 روز بعد رپورٹ بینچ کو پیش کرنے اور 60 دن میں تحقیقات مکمل کرنے  کی پابند ہے۔

پڑھیں: ’’ پاناما کیس : نام آگئےجےآئی ٹی آج ہی تشکیل دی جائے گی‘سپریم کورٹ ‘‘

قبل ازیں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاناما کیس میں جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے  سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نےجسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جے آئی ٹی کی تشکیل کےحوالےسےسماعت کی۔

سپریم کورٹ میں سماعت کےدوران قائم مقام گورنراسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایس ای سی پی عدالت میں پیش ہوئے دونوں اداروں میں کام کرنےوالےگریڈ18کےافسران کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی۔

جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے سماعت کےدوران جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جے آئی ٹی کےلیے بھیجے گئے نام باہرکیسے نکلے؟ادارے سیکریسی برقرار کیوں نہیں رکھ سکتے؟

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ فہرست عدالت پہنچنے سے پہلے اداروں نے نام خود آؤٹ کیے۔انہوں نےکہاکہ آپ کے بھیجےہوئے ناموں کی تصدیق کرائی؟عدالت عظمیٰ میں سماعت کےدوران جسٹس اعجازالاحسن نے ریماکس دیے کہ آپ کے بھیجے ہوئے ناموں کی تصدیق کرائی گئی ہے۔انہوں نےکہاکہ ایسے لگا ہمارے ساتھ کھیل کھیلا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جے آئی ٹی کیا ہے اور کیسے تحقیقات کرتی ہے؟

جسٹس عظمت سعید شیخ نے سماعت کےدوران ریماکس دیےناموں کی سیاسی وابستگی سے متعلق منفی رپورٹ ملی ہےجبکہ نام لیک ہونے کے ذمہ دار اداروں کے سربراہ ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ متنازع کمیشن کا فائدہ کس کو ہوگا؟۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں