The news is by your side.

Advertisement

جوبائیڈن: محنت کش کا ’ہکلا بچہ‘ امریکا کا صدر

امریکا کے 46ویں صدر منتخب ہونے والے ڈیموکریٹک کے رہنما جوبائیڈن کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اندوہناک سانحات کے باوجود اپنے سیاسی سفر کو جاری رکھا اور آج وہ ملک کے سربراہ منتخب ہوگئے۔

امریکی میڈیا پر شائع ہونے والی رپورٹ کا برطانوی خبررساں ادارے نے ترجمہ کیا اور اُسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا جس میں جوبائیڈن کی سیاسی جدوجہد اور زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

امریکی میڈیا نے جوبائیڈن کو ایک ایسا سیاسی شخص قرار دیا جس نے سب سے زیادہ المناک واقعات کا سامنا کیا مگر اُس کے باوجود انہوں نے اپنا سیاسی سفر ختم نہ کیا اور المیوں کے باوجود اسے آگے بڑھایا۔

تاریخ پیدائش 

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن 20 نومبر 1942 کو ریاست پینسلوینیا کے قصبے سکرینٹن میں ایک محنت کش کے ہاں پیدا ہوئے، اُن کے والد جوزف بائیڈن بھٹیوں کی چمنیاں صاف کرنے کا کام کرتے تھے جبکہ والدہ روایتی مسیحی خاتون تھیں۔

جب جوبائیڈن کی عمر تیرہ برس تھی تو اُن کے والد روزگار کے لیے خاندان سمیت پینسلیوینیا سے ڈلاویئر منتقل ہوگئے تھے ۔ اس علاقے میں جوبائیڈن نے اسکول میں داخلہ لیا اور پھر آرچ میئر اکیڈمی میں داخلہ لے کر مزید تعلیم حاصل کی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن بچن میں ہکلا کر بولتے تھے، وہ بچپن میں اپنا نام ’بائی ، بائی‘ کر کے بتاتے تھے جس کی وجہ سے اُن کا نام یہی پڑ گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کو شکست، جو بائیڈن امریکا کے صدر منتخب

جوبائیڈن نے ہمت نہیں ہاری اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی بولی کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے ہکلانے کی عادت پر قابو پانے کے لیے منہ میں شیشے کی گولیاں بھی ڈال کر بات کی اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر طویل نظمیں یاد کیں۔

جوبائیڈن نے دورۂ طالب علمی اپنے قد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسکول کی فٹبال ٹیم میں شمولیت اختیار کیا اور کئی بار اپنی ٹیم کو فتح سے ہم کنار کروایا، انہوں نے 1961 میں اسکول سے تعلیم مکمل کی۔

وکالت کی تعلیم

بعد ازاں جوبائیڈن نے یونیورسٹی آف ڈلاویئر میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے تاریخ، سیاسیات میں گریجویشن مکمل کیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے یونیورسٹی میں بھی فٹبال کو جاری رکھا۔

دورۂ طالب علمی میں جوبائیڈن اپنی ساتھی طالبہ نیلیہ ہنٹر کے عشق میں گرفتار ہوئے اور  پھر سرے کیوز یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔جوبائیڈن نے 1966 میں نیلیہ سے شادی کی۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 1965 میں جب جوبائیڈن اپنی دوست کے والدین کے سامنے گئے تو انہوں نے روزگار کے حوالے سے سوال کیا جس پر جوبائیڈن نے انہیں برجستہ جواب دیا کہ وہ امریکا کے صدر بنیں گے، اس لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔

جوبائیڈن بطور وکیل

وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سنہ 1968 میں جوبائیڈن ڈیلاویئر کے شہر وِلمنگٹن منتقل ہوئے جہاں انھوں نے ایک کمپنی میں وکالت کا آغاز کیا، جو بائیڈن نے سیاست میں حصہ لینے کے ساتھ بطور ریاستی وکیل خدمات انجام دیں۔

سیاسی سفر کا آغاز

وکالت کے ساتھ ساتھ جوبائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک متحرک رکن بن گئے۔ بعد ازاں 1970 میں انہوں نے نیو کاسل کاؤنٹی کونسل میں بطور کونسلر انتخابات میں حصہ لیا جس میں وہ کامیاب ہوئے، دو سال بعد ڈیموکریٹک پارٹی نے انہیں ریپبلکن پارٹی کے مضبوط امیدوار جے کیبل بوگس کے خلاف امریکی سینیٹ کا انتخاب لڑنے پر راضی کیا۔

یہ بھی پڑھیں: جوبائیڈن کو صدر منتخب ہونے پر مبارکبادیں

ری پبلکن کے امیدوار مضبوط امیدوار سمجھے جارہے تھے مگر انتخابات میں جوبائیڈن نے حریف کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اس انتخابی مہم میں جوبائیڈن کی بہن اور اہلیہ نے اُن کا بھرپور ساتھ دیا، جو اُن کی کامیابی کی وجہ بنا اور اس طرح جوبائیڈن پانچویں کم سن سینیٹر منتخب ہوئے۔

سینیٹر کا انتخاب

جوبائیڈن نے ڈیموکریٹک کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا، انہوں نے ریاست ڈلاویئر سے 1972 میں پہلی بات انتخابات میں حصہ لیا جس میں وہ معمولی فرق سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

بیوی اور بیٹی کی موت

رپورٹ کے مطابق سنہ 1972 میں جوبائیڈن سینٹ کے رکن منتخب ہوئے تو گاڑی کے حادثے میں اُن کی صاحبزادی اور اہلیہ جاں بحق ہوگئی جبکہ 2015 میں دماغ کے کینسر سے لڑنے والے بیٹے کی موت بھی ہوگئی تھی۔

جوبائیڈن کو امریکی تاریخ میں پانچویں کم عمر سینیٹر اور ڈلاوئیر کے طویل عرصے تک سینیٹر رہنے کااعزاز بھی حاصل ہوا۔

بیوی اور بیٹی کی موت کے بعد انہوں نے سینیٹ کے جتنے بھی انتحابات میں حصہ لیا ان سب میں کامیاب ہوئے۔ ان کے حلقے کے لوگوں نے اس سانحے کے بعد غیر رسمی طور پر جوبائیڈن کو اپنا مستقبل نمائندہ قرار  دیا۔

جوبائیڈن پر چوری کا الزام

امریکا کے نومنتخب صدر نے 1988 میں بطور صدارتی امیدوار حصہ لیا مگر اُن پر برطانوی سیاست دان کی تقریر چوری کرنے کا الزام عائد ہوا تھا جس کے بعد انہوں نے خود کو اس دوڑ سے علیحدہ کرلیا تھا۔

بعد ازاں 2007 میں جوبائیڈن ایک بار پھر صدارت کے امیدوار کی دوڑ میں شامل ہوئے مگر حمایت کم ہونے کی وجہ سے خود ہی دستبردار ہوئے، بعد ازاں سابق امریکی صدر بارک اوباما نے جوبائیڈن کو اپنا نائب صدر منتخب کیا، یوں وہ پہلی بار نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی تاریخ میں پہلی بار خاتون نائب صدر منتخب

جوبائیڈن کو بطور نائب صدر اپنے امور احسن طریقے سے انجام دینے پر اوباما نے صدارتی میڈل آف فریڈم سے بھی نوازا، یہ امریکا کا اعلیٰ ترین اعزاز ہے، میڈل ملنے کے بعد دو برس بعد بائیڈن نے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

سرکاری ذمہ داریاں

سینیٹر منتخب ہونے کے بعد جوبائیڈن اہم کمیٹیوں کا حصہ رہے اور طویل عرصے تک خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے، انہیں خارجہ معاملات میں ماہر اور تجربے کار فرد کی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اسلحے کی دوڑ پر قابو پانے کے لیے روس اور امریکا کا معاہدہ طے ہونے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

دوسری شادی

جو بائیڈن نے سنہ 1977 میں جِل سے دوسری شادی کی۔ ان دونوں کی بیٹی، ایشلی، سنہ 1981 میں پیدا ہوئیں، جوبائیڈن کی دوسری اہلیہ پیشے کے اعتبار سے ٹیچر ہیں انہوں نے شادی کے بعد ہر انتخابی مہم میں اپنے شوہر کا بھرپور ساتھ دیا اور حال ہی میں صدارتی الیکشن کی مہم چلانے میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں