The news is by your side.

Advertisement

جوہر ٹاؤن بم دھماکا کیس، مجرموں‌کو 9،9 بار سزائے موت کا حکم

لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت نے جوہر ٹاؤن بم دھماکا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 4 مجرمان کو 9،9 بار سزائے موت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جوہر ٹاؤن بم دھماکا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے چار مجرموں کو نو نو بار پھانسی کی سزا سنا دی، ذرائع کے مطابق بم دھماکے کے پیچھے بھارتی ایجنسی را اورافغان این ڈی ایس کا ہاتھ تھا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کوٹ لکھپت جیل میں اس کیس کا فیصلہ سنایا، عدالت نے جوہر ٹاؤن دھماکے میں ملوث چار مجرموں پیٹر پال، عید گل خان، ضیااللہ اور سجاد کو سزائے موت دے دی۔

عدالت نے خاتون مجرمہ عائشہ گل کو 5 سال قید کی سزا سنائی، عدالت نے مختلف دفعات میں مجرمان کو قید، جرمانے اور دیت کی ادائیگی کا حکم بھی سنایا۔

پراسیکیوٹر عبدالرؤف وٹو نے مجرمان کے خلاف گواہان پیش کیے، پراسکیوشن کے 56 گواہان نے مجرموں کے خلاف بیانات قلم بند کروائے۔

لاہور دھماکے میں اہم پیشرفت: جوہرٹاؤن میں کارکھڑی کرنے والا دہشت گرد راولپنڈی سے گرفتار

یاد رہے کہ مجرمان کے خلاف سی ٹی ڈی لاہور نے مقدمہ درج کیا تھا، عدالت نے مجرموں کے وکلا اور پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا، سی ٹی ڈی نے مجرموں کو جوہر ٹاؤن دھماکا کیس میں گناہ گار قرار دے رکھا تھا۔

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور فرانزک شواہد بھی ریکارڈ پر موجود ہیں، فرانزک شواہد اور گواہان کے بیانات سے ملزمان کا جرم ثابت ہوتا ہے، اس لیے ملزمان کو سزائے موت دی جائے۔ جس پر عدالت نے گزشتہ روز مجرمان کے خلاف فیصلہ آج تک محفوظ کر لیا تھا۔

خیال رہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 23 جون 2021 کو دھماکا ہوا تھا، جس میں 3 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہو گئے تھے، اسی علاقے میں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی رہائش گاہ بھی قائم ہے۔ پولیس نے جوہر ٹاؤن دھماکے میں ملوث تمام نیٹ ورک کو پکڑ لیا، ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکے کے پیچھے بھارتی ایجنسی را اورافغان این ڈی ایس کا ہاتھ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں