The news is by your side.

Advertisement

اداکارہ کے دیدار سے محروم شاعر نے کیا کیا؟

جوش ملیح آبادی کی خود نوشت “یادوں کی بارات” ایک ایسی کتاب ہے جس نے اپنے زمانے کی کئی بلند پایہ اور مشہور شخصیات کی نجی زندگی کو گویا سب کے سامنے عریاں کر دیا، لیکن یہی نہیں انھوں نے خود اپنے بارے میں بھی وہ سب لکھا جس نے ان کی شخصیت کو متنازع بنا دیا تھا۔

جوش ایک قادر الکلام شاعر تھے اور علم و ادب کی دنیا میں شہرت کے ساتھ ساتھ بہت بدنام بھی۔ ان کی حسن پرستی مشہور ہے۔ جوش صاحب رباعی کے بھی زبردست شاعر تھے۔ ان کی ایک رباعی پڑھیے جس کا پس منظر آپ کی دل چسپی کا باعث بنے گا۔

کہتے ہیں بمبئی (ممبئی) میں جوش ملیح آبادی ایک ایسے مکان میں ٹھہرے جس میں اوپر کی منزل پر ایک اداکارہ رہتی تھی، لیکن مکان کی ساخت کچھ ایسی تھی کہ اس کا دیدار نہ ہو سکتا تھا، ایک روز جوش نے اس پر یہ رباعی لکھی۔

میرے کمرے کی چھت پہ اُس بُت کا مکان
جلوے کا نہیں ہے پھر بھی کوئی امکان
گویا اے جوش میں ہوں ایسا مزدور
جو بھوک میں ہو سر پہ اُٹھائے ہوئے خوان

(ادبی دنیا کے لطائف اور مختلف شخصیات کے تذکرے)

Comments

یہ بھی پڑھیں