گھوٹکی : میرپور ماتھیلو میں مقامی صحافی طفیل احمد رند کو بچوں کے سامنے بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق گھوٹکی کے علاقے میرپور ماتھیلو میں برادری کے دیرینہ تنازعے پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ کرکے مقامی صحافی طفیل احمد رند کو قتل کردیا۔
پولیس کے مطابق صحافی جو ایک سندھی روزنامہ اخبار سے وابسطہ ہیں، واقعہ اس وقت پیش آیا جب صحافی اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے جا رہے تھے، فائرنگ کے نتیجے میں طفیل احمد موقع پر ہی دم توڑ گئے، تاہم ان کے بچے معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
پولیس نے مقتول کی لاش کو میرپور ماتھیلو اسپتال منتقل کر دیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس نے کہا کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے آٹھ سالہ بھتیجی رینا زخمی ہوئی تھی، تاہم وہ دلبرداشتہ ہو کر صدمے چل بسی۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی معلومات سے پتا چلا ہے کہ مقتول کا اپنی برادری کے چند افراد سے کئی سالوں سے تنازعہ چل رہا تھا، جس کے دوران ایک قتل کیس میں طفیل احمد رند پر الزام بھی عائد کیا گیا تھا، جس کے بعد کچھ عرصہ قبل مقتول صحافی کے کزن کو بھی قتل کیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
واقعے کے بعد گھوٹکی بھر کی صحافی برادری میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے، ضلع بھر سے بڑی تعداد میں صحافی میرپور ماتھیلو پہنچ گئے اور مقتول کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
صحافی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے گھوٹکی میں صحافی طفیل کے قتل پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں پر حملے آزادی صحافت پر حملے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاتلوں کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے اور صحافی کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائیں۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے گھوٹکی میں صحافی کےقتل کانوٹس لے لیا اور ڈی آئی جی سکھر سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
Sehrish Khokhar is ARY News Sukkur Correspondent


