The news is by your side.

Advertisement

جارج بش پر جوتا پھینکنے والا صحافی عراقی پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنےکے لیے تیار

بغداد : سابق امریکی صدر پر جوتا پھینکنے والے صحافی منتظر الزیدی نے رواں برس مئی میں ہونے والے عراق کے پارلیمانی الیکشن میں حصّہ لینے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق عراق میں دس برس قبل سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر جوتا پھینکنے والے صحافی منتظر الزیدی رواں برس مئی میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصّہ لیں گے۔

مصری خبر رساں ادارے سے منسلک صحافی کو دوران قید اچھے رویے کے باعث 9 ماہ میں ہی رہا کردیا گیا تھا، منتظر الزیدی کو صدر بش پر جوتا مارنے کی وجہ دنیا بھر میں بے حد مقبولیت پائی تھی۔

صحافی منتظر الزیدی سنہ 2009 میں جیل سے رہا ہونے کے بعد لبنان منتقل ہوگئے تھے، لیکن وہ دو ماہ قبل عراق واپس آئے ہیں تاکہ رواں برس 12 مئی ہونے والے پارلیمانی الیکشن میں حصّہ لیں سکیں۔

منتظر الزیدی نے ویڈیو کے ذریعے عراقی عوام کو پیغام دیا کہ ’آپ لوگ مجھے کافی عرصے جانتے ہیں، میں مظلوموں حمایت اور ظالموں کے خلاف کام کروں گا‘۔

صحافی کا کہنا تھا کہ جوتا پھینکنا – جو کہ عرب ثقافت میں کسی کی توہین کرنے کی علامت سمجھاجاتا ہے – یہ ان کی طرف سے 2003 میں عراق پر حملہ کرنے والے کو الوداع کہنے کا انداز تھا۔

امریکی صدر جارج بش پر جوتا پھینکے جانے کی ویڈیو میں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جوتے مارتے ہوئے صحافی نے امریکی صدر کو للکارتے ہوئے کہا تھا ’تم نے عراقیوں کو قتل کیا ہے‘ پیچھے موجود سیکیورٹی گارڈ نے صحافی کو پکڑ کر زمین پر گرادیا۔

منتظر الزیدی کا امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’مجھے امریکی عوام سے یا متحدہ ہائے امریکا سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، مجھے صرف سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے دشمنی ہے جس نے میرے ملک پر حملہ کرکے عراقی شہریوں کو قتل کیا‘۔

یاد رہے کہ صحافی منتظر الزیدی نے سنہ 2008 میں عراقی وزیر اعظم نوری الماکی کے ساتھ مشترکہ طور پر پریس کانفرنس کرنے والے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر اپنے دونوں جوتے دے مارے تھے۔

سابق امریکی صدر جارج بش صحافی کی جانب سے پھینکنے گئے جوتوں سے بچنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن امریکی صدر پر جوتا پھیکنے کے جرم میں عراقی عدالت نے منتظرالزیدی تین سال کی سزا سناتے ہوئے جیل منتقل کردیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں