The news is by your side.

Advertisement

جج آفتاب آفریدی کے قتل کا مقدمہ درج، سپریم کورٹ بار کے صدر نامزد

صوابی: جج جسٹس آفتاب آفریدی کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ، مقدمے میں سپریم کورٹ بار کے صدرلطیف آفرید ی کو نامزد کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جج جسٹس آفتاب آفریدی کے قتل کا مقدمہ ان کے بیٹے کی مدعیت میں تھانہ چھوٹا لاہور میں درج کرلیا گیا ، مقدمہ میں سپریم کورٹ بارکےصدرلطیف آفرید ی ، جمیل،دانش آفریدی، جمال آفریدی اور عابد محمد شفیق کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 4 نامعلوم افراد بھی مقدمے میں نامزد ہے۔

ماجد آفریدی کا کہنا ہے کہ واقعہ پرانی دشمنی کی وجہ سےپیش آیا جبکہ مقتول جج کے کزن پروفیسراسلم آفریدی نے کہا تھا کہ مقتول جج آفتاب آفریدی کوخاندانی دشمنی پرقتل کیاگیا، سپریم کورٹ بار کےصدرلطیف آفریدی کاقتل میں ہاتھ ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب پولیس کی جوائنٹ آپریشن ٹیم نے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اور اہلخانہ کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے پشاور اور خیبر کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے اور 5 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔

ڈی پی اوشعیب کا کہنا ہے کہ گرفتار تمام افراد کی شناخت مقتول جج کے بیٹے ماجد آفریدی کریں گے، ایف آئی آرمیں شامل 2 گاڑیاں بھی ریکورکی گئی ہیں، شناخت پریڈعمل کےبعدمزید تفتیش کی جائے گی۔

یاد رہے گذشتہ روز پشاورموٹروے انبارانٹرچینج کے قریب انسداد دہشت گردی عدالت سوات کے جج جسٹس آفتاب آفریدی کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی ، جس کے نتیجے جسٹس آفتاب آفریدی اہلیہ اور بچوں سمیت جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ ڈرائیورذاکر اور گن مین داؤد شدید زخمی ہوئے۔

شہید جج آفتاب آفریدی سوات سے اسلام آباد جارہے تھے، وہ دو ماہ قبل سوات میں تعینات ہوئے تھے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان نےافسوسناک واقعے پرگہرے رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے قاتلوں کی جلد گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں