اسلام آباد : سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت ہوئی.
دورانِ سماعت وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو توشہ خانہ فوجداری کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کر رکھا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بانی پی ٹی آئی کی سزا معطل کرچکی ہے، اس معاملے پر مناسب حکم جاری کیا جائے گا اور پیل اپیل کے قانونی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ جب ٹرائل کا فیصلہ آچکا ہے اور اس کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں تو کیا یہ درخواست غیر مؤثر نہیں ہوچکی؟
وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ اگر یہ ایک نارمل مقدمہ ہوتا تو وہ اسے غیر مؤثر قرار دینے کی بات کرتے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عدالت مقدمے کی قانونی حیثیت پر حکم دیتی ہے تو اس سے فریقین متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ اپیلیٹ کورٹ کا کردار ادا نہیں کرے گی اور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔
لطیف کھوسہ نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے پاس مکمل اختیارات موجود ہیں اور یہ عدالت کو فیصلہ کرنا ہے کہ وقت (کلاک) واپس کرنا ہے یا نہیں۔
انہوں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ کیس میں ابتدائی حکم تین رکنی بینچ نے جاری کیا تھا۔
چیف جسٹس نے توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا کہ آج کی سماعت کا حکم بعد میں جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ فوجداری کیس میں تین سال قید کی سزا سنا چکی ہے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ اس سزا کو معطل کرچکی ہے۔


