The news is by your side.

Advertisement

فاٹا بل کے خلاف جے یو آئی ف کا احتجاج، اسمبلی پر دھاوا بول دیا

مشتعل مظاہرین کا پولیس پر پتھراؤ، دو پولیس اہل کار زخمی، پولیس نے گیارہ مظاہرین کو گرفتار کرلیا

پشاور: فاٹا کی قومی دھارے میں شمولیت کے لیے لائے جانے والے بل کے خلاف جمعیت علمائے اسلام ف نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کے پی اسمبلی پر دھاوا بول دیا۔

تفصیلات کے مطابق جے یو آئی فضل الرحمان گروپ نے خیبر پختونخوا میں فاٹا کے انضمام کے عمل میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی اور کے پی اسمبلی کے باہر احتجاج کیا۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے مشتعل کارکنان نے فاٹا کے انضمام کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے  اسمبلی کے گیٹ پر چڑھنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے جے یو آئی کے مشتعل مظاہرین کو اسمبلی میں داخل ہونے سے روک دیا، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن بھی طلب کی گئی۔

مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس میں دو پولیس اہل کار زخمی ہوگئے، احتجاج کے باعث خیبر پختونخوا اسمبلی کے قریب ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی، پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس فائر کیے، تصادم کے باعث علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے کارکنان نے اسمبلی کے باہر لگی خاردار تاریں بھی پار کرلیں، مظاہرین نے اسمبلی کے گیٹ پر تالہ لگانے کی کوشش کی تاکہ فاٹا بل کی منظوری روکی جاسکے۔پولیس نے گیارہ مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا بل آج صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا


پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد مظاہرین نے اسمبلی کے باہر ٹائر جلائے، ہاتھوں میں سیاہ جھنڈے لہرا کر نعرے بازی کرتے رہے، خیال رہے کہ آج فاٹا کے انضمام کا بل کے پی اسمبلی میں پیش کیا جانا ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹ میں بل کی منظوری کے بعد آج اس فیصلے کی توثیق پختونخواہ اسمبلی سے ہونی ہے۔ صوبائی حکومت کو فیصلے کی توثیق کے لیے 82 ووٹ درکار ہوں گے جب کہ جمعیت علمائے اسلام کے علاوہ تمام جماعتیں توثیق کی حمایت کریں گی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں