site
stats
پاکستان

جےیو آئی کےرہنماخالد سومرو قتل کیس فوجی عدالت میں بھیجنے کا فیصلہ

کراچی : جے یو آئی کے رہنما خالد سومرو قتل کیس فوجی عدالت میں بھیجنے کا فیصلہ ہوگیا، وزیراعلی سندھ مرادعلی شاہ نے سمری منظورکرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے خالد سومرو کیس فوجی عدالت میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے سمری منظور کرلی ہے جبکہ قتل کے خلاف جے یو آئی کا دھرنا روکنے کیلئے حکومت سندھ نے سرتوڑ کوششیں شروع کردیں اور مشیر قانون بیرسٹر مرتضی وہاب نےجےیو آئی کااہم مطالبہ تسلیم کرنے کی تصدیق کردی۔

حکومت سندھ آج ہی وزارت داخلہ کو خط ارسال کرے گی، مرتضی وہاب نے امید ظاہر کی مطالبات تسلیم ہونے پر جے یو آئی دھرنا نہیں دیں گی۔


 

مزید پڑھیں : خالدسومرو قتل کیس فوجی عدالت میں چلایا جائے


 

دوسری جانب علامہ راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے گذشتہ شب رابط کیا تھا، ہمارا دھرنا شیڈول کے مطابق ہے، مقدمہ فوجی عدالت بھیجنے کی تصدیق اور لیٹر ملنے کے بعد جے یو آئی کے رہنما مشاورت کریں گے، جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے نائب صدر قاری محمد عثمان نے کہا کہ علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے کیس میں سندھ حکومت کی ہٹ درمی کے خلاف وزیر اعلی ہاوس پر کفن پوش دھرنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔

انکا مزید کہنا ہے کہ لاڑکانہ سے 200 سکھرسے 190 گھوٹکی سے 210 جیکب آباد کشمور اور کندہ کوٹ سے 400 گاڑیوں کے قافلے شرکت کریں گے ،پاکستان کے پسماندہ ترین ضلع تھر پار کر سے 50 گاڑیوں کا قافلہ شریک ہوگا،اسی طرح سندھ کے دیگر اضلاع سے 700 کے لگ بھگ گاڑیوں کے قافلے جمعرات کو مقررہ وقت پر کراچی پہنچیں گے ،کراچی کے تمام اضلاع سے 800 سے زائد گاڑیوں کے قافلے نمائش چورنگی پہنچیں گے۔

اندرون سندھ اور کراچی کے تمام قافلے مقررہ وقت پر سروں پر کفن باندکر نمائش چورنگی جمع ہوں گے جہاں سے وزیر اعلٰی ہاوس کی جانب کفن پوش مارچ شروع ہو گا،جے یو آئی کا کفن پوش مارچ اور وزیر اعلی ہاوس پر دھرنا بالکل پر امن ہوگا حکومت نے اگر تشدد اور رکاوٹیں کھڑی کر نے کی کوشش کی تو حالات کی خرابی کی ذمہ دار سندھ حکومت ہوگی۔


 

جمعیت علماء اسلام سندھ کے رہنما ڈاکٹر خالد محمود سومرو قاتلانہ حملے میں جاں بحق


 

واضح رہے کہ جے یو آئی رہنما کو انتیس نومبر دوہزار چودہ کو سکھر میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top