مولانا فضل الرحمان 13 سال بعد وزرا کالونی چھوڑنے پر مجبور -
The news is by your side.

Advertisement

مولانا فضل الرحمان 13 سال بعد وزرا کالونی چھوڑنے پر مجبور

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو آخر کار 13 سال بعد وزرا کالونی چھوڑنی پڑ گئی، وہ وفاقی وزیر نہ ہوتے ہوئے بھی مراعات لے رہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ مجلس عمل کے صدر تیرہ سال تک وزرا کالونی میں رہائش کے مزے لوٹنے کے بعد آخر کار ان سے منہ موڑنے پر مجبور ہو گئے۔

وزرا کالونی میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش اور بغیرعہدہ مراعات استعمال کرنے کا معاملہ اے آر وائی نیوز نے اٹھایا تھا، آج مولانا فضل الرحمان کی وزرا کالونی کی رہائش کے تمام واجبات بھی ادا کر دیے گئے۔

مولانا فضل الرحمان کو بہ طور چیئرمین کشمیر کمیٹی وفاقی وزیر جیسی مراعات حاصل تھیں، انتخابات 2018 میں اپنے 2 حلقوں میں شکست کے بعد انھوں نے بنگلہ نمبر 22 چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

مولانا فضل الرحمان ہار کر بھی اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف

وزرا کالونی کی رہائش چھوڑنے کے بعد جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اپنا ڈیرہ سینیٹر طلحہ محمود کے فارم ہاؤس میں جما لیا ہے۔

واضح رہے کہ اے آر وائی نیوز نے 29 جولائی کو یہ معاملہ اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ ایک دینی جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجود مولانا نے نہ تو پروٹوکول واپس کیا نہ سرکاری گھر، وہ پارلیمنٹ لاجز بھی چھوڑنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دے رہے۔

مولانا فضل الرحمان نے آرمی چیف کے بیان سے اپنی مرضی کا مطلب نکال لیا

اپنی مستحکم سیٹیں ہارنے کے بعد اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے اسمبلیوں میں بیٹھنے کے معاملے میں انھیں اکیلا چھوڑنے پر مولانا فضل الرحمان کئی تنازعات میں الجھ گئے تھے جن میں سے ایک آرمی چیف کے بیان سے غلط مطلب نکالنے والا معاملہ بھی شامل ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں