اسلام آباد : قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے جوس کمپنیوں کے بڑے اسکینڈل کا پردہ فاش کر دیا اور انکشاف ہوا کہ جوس کمپنیاں آم کے بجائے کیمیکل اور مصنوعی ذائقے استعمال کررہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ملک میں جوس بنانے والی متعدد بڑی کمپنیاں آم کے قدرتی گودے کے بجائے مضرِ صحت مصنوعی ذائقے ور کیمیکلز کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔
کمیٹی نے بتایا کہ اس عمل سے نہ صرف بچوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو رہے ہیں بلکہ ملکی زراعت کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاکستان مینگو ایسوسی ایشن کی جانب سے کمیٹی کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جوس کمپنیوں کی طرف سے آم کے قدرتی گودے کی کھپت میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 90 فیصد تک واضع کمی دیکھی گئی ہے۔
مروجہ قوانین اور فوڈ سیکیورٹی کی قانونی حد کے مطابق کسی بھی پیکڈ جوس میں کم از کم 25 فیصد اصل پھل کا شامل ہونا آئینی طور پر ضروری ہے، تاہم کمپنیاں منافع خوری کے لیے قوانین کو ہوا میں اڑا رہی ہیں۔
کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس پالیسی کی وجہ سے جہاں عوام کی صحت سے کھیلا جا رہا ہے، وہیں آم کے مقامی کاشتکار اور باغبان بھی شدید مالی بحران اور نقصان کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی فصل کا خریدار کوئی نہیں ہے۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے ملک بھر میں فوڈ اتھارٹیز اور کوالٹی کنٹرول کے اداروں کو فوری طور پر جوس کمپنیوں کے خلاف ملک گیر تحقیقات اور سخت نگرانی کا حکم جاری کر دیا ہے۔


