اسلام آباد (13 نومبر 2025): جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ڈسلپن کی خلاف ورزی کرنے والے پارٹی کے سینیٹر احمد خان کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔
جے یو آئی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ جے یو آئی نے منحرف رکن سینیٹر احمد خان سے استعفیٰ طلب کر لیا ہے، اگر وہ استعفیٰ نہیں دیتے تو ان پر آرٹیکل 63 اے لاگو ہوگا۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ میں پارٹی ڈسپلن کا پابند ہوں اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے پی ٹی آئی سینیٹر کو پارٹی سے نکال دیا گیا
انہوں نے بتایا کہ سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان کی وطن واپسی پر منحرف رکن سینیٹر احمد خان کے خلاف کارروائی شروع ہوگی، ان کے خلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان وطن واپسی کے بعد حتمی لائحہ عمل طے کریں گے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی (ف) کے احمد خان نے مبینہ طور پر پارٹی ڈسلپن کے خلاف 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
رہنما جے یو آئی (ف) نے مزید کہا کہ جب کوئی رکن استعفیٰ دے دے تو اسے ایوان میں نہیں آنا چاہیے، استعفیٰ مقدس عمل ہے اس کی حرمت کا خیال رکھنا ضروری ہے، چیئرمین سینیٹ ایوان کے کسٹوڈین ہیں انہیں اس تقدس کو برقرار رکھنا چاہیے، استعفے کے باوجود رکن ایوان میں آئے تو تاریخ گواہ ہوگی۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں جلد بازی اور لاپرواہی برتی گئی، ہم پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ اس میں غلطیاں ہیں، آرٹیکل 6 اور چیف جسٹس کے معاملے پر غلطیاں ظاہر ہو چکی ہیں، ابھی مزید غلطیاں سامنے آئیں گی جب ذہن استعمال کیا جائے گا۔
’ہم 27ویں آئینی ترمیم کو تسلیم نہیں کرتے، 26ویں میں بھی اختلاف تھا مگر 27ویں نے اسے ریورس کر دیا۔ حکومت نے بغیر مشاورت ترمیم کر کے ہمیں کمٹمنٹ سے آزاد کر دیا، اب ہمارے اوپر کسی دفاع کی ذمہ داری نہیں رہی۔ کوئی حکومت جمہوری نہیں رہی۔‘


