The news is by your side.

Advertisement

وکی لیکس کے بانی کو جیل میں بڑی خوش خبری مل گئی

لندن: دنیا بھر میں تہلکہ مچانے والے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو لندن کے بیلمارش جیل میں اپنی دوست اسٹیلا مورس سے شادی کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو جیل میں شادی کی اجازت مل گئی، جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اجازت جولین کی درخواست پر جیل کے گورنر نے دی ہے۔

جولین اسانج کی ہونے والی بیوی اسٹیلا مورس نے شادی کی اجازت کی خبر پر کہا کہ امید ہے کہ ہماری شادی میں اب مزید مداخلت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ برطانوی میرج ایکٹ 1983 کے تحت جیل کے قیدی یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ جیل میں شادی کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں لیکن درخواست گزار کے لیے ضروری ہے کہ وہ شادی کے تمام اخراجات اٹھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔

اسٹیلا مورس ایک وکیل ہیں، اور وہ جنوبی افریقا میں پیدا ہوئیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کی جولین اسانج سے 2011 میں اس وقت ملاقات ہوئی تھی جب انھوں نے جولین کی لیگل ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔

یاد رہے کہ پچاس سالہ اسانج امریکا کی جانب سے جاسوسی کے الزامات کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ وہ 1971 میں آسٹریلیا میں پیدا ہوئے تھے، اور کم عمری میں ہی ہیکنگ جیسے کاموں میں ملوث ہو کر پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے ریڈار پر آگئے تھے، 2006 میں ان کی خفیہ ویب سائٹ منظر عام پر آئی جس کا مقصد امرا، حکومتوں اور مسلح افواج کے راز افشا کرنے تھے۔

اپریل 2010 میں جولین ایک خفیہ ویڈیو منظر عام پر لائے، جس میں 2007 میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹر سے 12 عراقیوں کو ہلاک کرتے دکھایا گیا تھا، جن میں معروف خبر رساں ادارے کے دو صحافی بھی شامل تھے۔

جولین سویڈن کی حکومت کو بھی مطلوب ہیں، امریکی عدالت نے نومبر 2010 میں ان پر مقدمہ چلانے کا اعلان کیا تھا، ان کے خلاف انٹرپول کے ریڈ وارنٹ بھی جاری کیے گئے تھے جس کے بعد انھوں نے ایکواڈور کے لندن سفارت خانے میں پناہ لے لی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں