site
stats
سندھ

جنید جمشید کے دوستوں میں غم کی لہردوڑگئی

کراچی : چترال سے اسلام آباد آنے والے بد قسمت طیارے کے حادثے میں معروف نعت خواں جنید جمشید اور ان کی اہلیہ کے جاں بحق ہونے اطلاع سن کر ان کے دوستوں میں غم لہر دوڑ گئی، اے آر وائی نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے نامور گلوکاروں فخر عالم، علی عظمت، فاخر، رحیم شاہ اور ابرار الحق نے جنید جمشید کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔


یہ پڑھیں: پی آئی اے طیارہ تباہ، 36 لاشیں نکال لی گئیں، تمام مسافر جاں‌ بحق ہونے کا خدشہ


جنید جمشید کی زندگی نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہے، فخرعالم

گلوکار فخر عالم نے کہا کہ جنید میرے پڑوسی بھی ہیں، میرے گھر کے سامنے ان کی رہائش ہے، دل دل پاکستان کی کہانی آج یوں بیان ہوئی کہ ہر پاکستان کا دل اداس ہے، جنید کی زندگی کا سفر نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے، ان کا اسلام سے محبت کا سفر تاریخ میں رقم ہوگیا، جب بھی کسی پر مصیبت آتی تھی تو وہ فوراً دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تھے آج میں قوم سے گزارش کرتا ہوں کہ جنید کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں۔

فخر عالم جو کہ پائلٹ بھی رہ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ پہاڑی علاقے میں جہاز اڑانا ویسے ہی مشکل ہے اس کی باقاعدہ تربیت ہوتی ہے، اے ٹی آر طیارے ناقابل اعتبار ہیں، ان کے اب تک پندرہ حادثے ہوچکے ہیں، ان طیاروں کو شدید مرمت درکار رہتی ہے، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم نے اے ٹی آر طیارے تاحال کیوں رکھے ہوئے ہیں؟

فخر عالم نے بتایا کہ جب ہم دونوں اپنے اپنے گھروں کے ٹیرس پر آتے تھے تو جنید وہیں سے مجھ دیکھ کر آواز دیتا تھا کہ کیا کررہے ہو؟ چلو آؤ نماز پڑھتے ہیں۔

جنید نے اللہ کے راستے میں شہادت پائی، ابرار الحق

گلوکارابرارالحق نے گلوگیر لہجے میں کہا کہ جنید کے بارے میں کیا کہوں،آج میرا دل بھاری ہورہا تھا، مغرب کی نماز میں ویسے ہی روپڑا تھا، جنید مبلغ دین تھا، وہ اسلام کی دعوت دینے کے لیے جاتا تھا ہم کسی کو بھی شہید کہہ دیتے ہیں لیکن جنید واقعی شہید ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جنید اپنے پروگرامز میں لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کے راستے پر چلنے کا پیغام دیتا تھا اس کی زندگی کا مشن ہی یہی تھا، وہ خوش قسمت بندہ تھا کہ تبلیغ کے لیے گیا اور واپس نہ آیا، اللہ کے راستے میں شہادت پائی، جنید کے اہل خانہ اور ہمارے لیے ان کی شہادت باعث فخر ہے۔

جنید مذہب کے معاملے پر میری سرزنش بھی کرتا تھا، علی عظمت

گلوکارعلی عظمت نے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کیا کہ کہوں، جنید بہت اچھا اور پیارا انسان تھا، میرا اور جنید کا ساتھ 30 برس پرانا ہے، لوگ مجھے کہتے کہ جنید مولوی ہوگیا دیکھو اسے کیا ہوگیا میں کہتا تھا جو کرررہا ہے ٹھیک کررہا ہے۔

علی عظمت نے کہا کہ جنید مذہب کے معاملے پر میری سرزنش بھی کرتا تھا اور کہتا تھا کہ ایک دن تم بھی راستے پر آؤ گے ،جیند سے آخری ملاقات رمضان المبارک میں اے آر وائی کے دفتر میں گرم جوشی کے ساتھ ہوئی، جنید حقوق العباد اور حقوق اللہ میں بہت آگے تھا،اللہ جنید کو جنت نصیب کرے۔

جنید جمشید ہر ایک کا بھلا چاہتے تھے،فاخر

ان کے ساتھی گلوکار فاخر نے کہا کہ ہم صدمے سے دوچار ہیں،تین ماہ قبل ان سے آخری بات چیت ہوئی تھی،جنید جمشید سے بہت پرانی ار برسوں پر محیط دوستی ہے۔

جنید جمشید بہت اچھے اور ہمیشہ خوش رہنے والے شخص تھے، وہ ہر ایک کا بھلا چاہتے تھے،ان میں کوئی برائی نہیں تھی، جنید جمشید جہاز کے دیگرمسافروں سے منفرد یوں بھی تھے کہ وہ تبلیغ کے لیے چترال گئے تھے یہ بات انہیں دیگر مسافروں سے ممتاز بناتی ہے۔ فاخر نے دعا کی کہ جہاز میں ان کے ساتھ ان کی فیملی کم سے کم ہو۔

وہ چاہتے تھے کہ ان خاتمہ ایمان پر ہو، رحیم شاہ

گلوکار رحیم شاہ نے انااللہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور کہا کہ جنید بھائی کے ساتھ آخری بات فون پر اس وقت ہوئی جب وہ عمرے پر تھے اور مدینہ پہنچے تھے، انہوں نے کہا کہ پتا نہیں کیوں دل چاہ رہا ہے کہ تمھیں دعائیں دوں اور کہا کہ دعا کرو کہ میرا خاتمہ ایمان پر ہو۔

آج یہ جو حادثہ ہوا تو ان کی بات یاد آئی کہ وہ چاہتے تھے کہ ان خاتمہ ایمان پر ہو اور ایسا ہی ہوا، اللہ انہیں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی دکھ سے کہتا ہوں کہ ان کا خلا پر نہیں ہوسکے گا، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top