site
stats
انٹرٹینمںٹ

جنید جمشید کا بیٹا والد کے نام کا حج کرنے کے لیے روانہ

کراچی: طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے معروف ثناء خوان جنید جمشید کے صاحبزادے سیف اللہ نے کہا ہے کہ میں بابا کے نام کا حج کرنے جارہا ہوں، اگر کوئی دعا کروانا چاہیے وہ اپنے پیغامات بھیج سکتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ویڈیو پیغام میں سیف اللہ جنید جمشید نے کہا کہ ’’میرے لیے بہت خوشی کا موقع ہے کیونکہ اللہ نے مجھے دوبارہ حج کرنے کا موقع فراہم کیا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جس طرح گزشتہ سال ہماری پوری فیملی نے بابا کے ساتھ حج کیا تھا میں اُسی طرح یہ والا حج بابا کے نام کا کرنا چاہتا ہوں، جتنے بھی لوگ اس سال حج کررہے ہیں وہ بہت خوش نصیب ہیں اور انہیں اس بات پر خوش بھی ہونا چاہیے‘۔

ویڈیو پیغام دیکھنے کے لیے نیچے جائیں

سیف اللہ جنید جمشید نے کہا کہ ’جو لوگ حج کررہے ہیں انہوں خوش ہونا چاہیے کیونکہ وہ دوبارہ اس اہم سعادت کو ادا کرنے جارہے ہیں تاہم جو لوگ نہیں کررہے انہیں ذی الحجۃ کے ان دس دنوں کا بہت اچھی طرح سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘۔

جنید جمشید کے صاحبزادے نے کہا کہ ’اگر آپ اپنے لیے کوئی دعا کروانا چاہتے ہیں تو مجھے ضرور اپنے پیغامات بھیجیں‘۔

جنید جمشید کے بیٹے کی ویڈیو دیکھیں

خیال رہے 7 دسمبر کو ایبٹ آباد کے مقام حویلیاں کے مقام پر چترال سے اسلام آباد جانے والی پرواز پی کے 661 کو حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں جنید جمشید سمیت 48 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

جنید جمشید کا سفر زندگی

واضح رہے معروف مبلغ جنید جمشید کی پیدائش 3 ستمبر 1964 کو کراچی میں ہوئی، والد کا تعلق پاکستان ائیرفورس سے ہونے کے باعث آپ کے والد نے ابتدائی طور پر کوشش کی کہ آپ کو اُسی شعبے سے وابستہ رکھا جائے۔

دورہِ طالب علمی میں میوزک سے لگاؤ ہونے کے بعد دوست احباب کے ساتھ مل کر ایک بینڈ تشکیل دیا، جس نے 1983 میں پشاور اور پھر اسلام آباد یونیورسٹی میں اپنی فن کا مظاہرہ کیا،  بعد ازاں اس چھوٹے سے بینڈ وائٹل سائنس نے دنیا بھر میں نام روشن کیا اور دل دل پاکستان جیسے مشہور قومی نغموں کی تخلیق کی۔

مزید تفصیل پڑھیں : جنید جمشید کا سفر زندگی


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top