جنون - ایک بار پھر واپس آرہا ہے -
The news is by your side.

Advertisement

جنون – ایک بار پھر واپس آرہا ہے

موسیقی کے مداحوں کے لیے خوشخبری ہے کہ جنون دی بینڈ کے تینوں ارکان تیرہ سال بعد ایک ساتھ اپنے مداحوں کے لیے ایک اور شاندار پرفارمنس دینے کو اکھٹے ہوچکے ہیں۔

موسیقی کو روح کی غذا کہا جاتا ہے اور جب بات ہو راک کی دھنوں پر صوفی کلام کی تو سوائے ’جنون‘ دی بینڈ کے ایسا کون سا نام ہے جو ذہن میں آتا ہو۔ جنون سلمان احمد، علی عظمت اور برائن – او – کونل نامی امریکی نژاد گٹارسٹ پر مبنی ہے۔

آج سے لگ بھگ 25 سال قبل جنون – دی بینڈ کے قیام عمل میں آیا تھا اور اپنے مخصوص صوفی راک اسٹائل کے سبب یہ بینڈ دیکھتے ہی دیکھتے بر صغیر کے کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن گیا تھا ۔ 20 سال قبل انہوں نے اپنا شہر ہ آفاق البم ’آزادی‘ پیش کیا جس کے بعد جنون واقعی موسیقی کے مداحوں کا جنون بن گیا تھا۔

کروڑوں دلوں کی دھڑکن بنے اس بینڈ کے گٹارسٹ سلمان احمد اور گلوکار علی عظمت کے درمیان اختلافات کے سبب عوام میں دیوانگی کی حد تک مقبول یہ بینڈ13 سال قبل بکھر گیا تھا ۔ اس کے بعد سے موسیقی کے شائقین صوفی راک میوزک سننے کو ترس ہی گئے تھے ۔ گزشتہ سال بینڈ کے گٹارسٹ سلمان احمد نے اشارے دینا شروع کیے کہ وہ ایک بار پھر بینڈ کو یکجا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے مختلف ٹی وی انٹرویوز میں بھی اپنی اس خواہش کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے اپنے گروپ کی ماضی کی تصاویر شیئر کرنا شروع کی تو عوام کی جانب سے بینڈ کے دوبارہ متحد ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

گزشتہ برس کوک اسٹوڈیو نے اس بینڈ کے سب سے مقبول گانے ’سیونی‘ کو اپنے سیزن کے لیے ریکارڈ کیا تو اس میں سلمان احمد تو گٹاربجاتے دکھائی دیے تاہم علی عظمت کی جگہ راحت علی خان اور علی نور اس مشہور زمانہ گانے کو گارہے تھے ۔ اس ویڈیو کے ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر گویا ایک کہرام مچ گیا ، ہر کسی نے ’ جنون بینڈ کی ماضی کی ویڈیو شیئر کرکے مطالبہ کیا کہ یہ گانا صرف علی عظمت اور سلمان احمد کے لیے ہی بنا ہے۔

بینڈ کی اس مقبولیت اور عوامی اصرار کو مدنظر رکھتے ہوئے علی عظمت ، سلمان احمد اور برائن ایک بار پھر اپنے آپس کے اختلافات بھلا کر یکجا ہوئے ہیں اور بہت جلد یہ بینڈ کروڑوں دلوں کو ایک بار پھر اپنے مخصوص انداز میں گرمائے گا۔ پاکستان کےمیوزک شائقین پر امید ہیں کہ ایک بار پھر انہیں وہ ’جنون‘ دیکھنے کو ملے گا جو کبھی ان کی دیوانگی کا مرکز ہوا کرتا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں