کراچی : سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچ نے کراچی واٹر کارپوریشن کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا ، ٹینکر سسٹم بند کرو، لوگوں کو لائنوں کےذریعے پانی دو۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں اورنگی ٹاؤن میں شہری کے گھر پر پانی کی عدم فراہمی کے کیس کی سماعت ہوئی۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کراچی واٹر کارپوریشن کے حکام پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ ڈبلیو سی سے استفسار کیا کہ میئرکراچی نے تو کہا تھا ہم لائن کےذریعے پانی فراہم کریں گے، تو لوگوں کوپانی کیوں نہیں دے رہے؟ درخواست گزار کے گھر تک پانی پہنچائیں۔
وکیل کے ڈبلیو سی مسرور احمد نے بتایا کہ پرانی لائنیں ہیں،بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ہے، جس پر جسٹس عدنان کریم میمن نے ریمارکس دیے تو لائنیں بناؤ، کچھ خرچ عوام پر بھی کریں۔
سپرنٹنڈنٹ کے ڈبلیو سی نے مزید کہا کہ :ہمیں پیچھےسے بھی پانی بہت کم مل رہا ہے تو جسٹس عدنان کریم میمن کا کہنا تھا ٹینکرز والوں کو پانی کہاں سے ملتا ہے وہ تو پورے کراچی کو پانی پہنچا رہے ہیں، جب ٹینکرزسے پانی مل رہاہے تو لائن کے ذریعے کیوں نہیں دیا جا رہا؟ اس کا مطلب ہے پانی موجود ہے لیکن لائنوں کے ذریعے نہیں دے رہے۔
سپرنٹنڈنٹ کے ڈبلیو سی نے عدالت میں بتایا کہ ٹینکرزوالےغیرقانونی ہائیڈرنٹس سےبھی پانی لیتے ہیں، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ قانونی ہویاغیر قانونی، شہریوں کو پانی گھروں تک ملنا چاہیے،ٹینکر سسٹم بند کرو، لوگوں کو لائنوں کےذریعے پانی دو، ہم اس درخواست پر سخت فیصلہ کریں گے۔
جب ٹینکرز کے ذریعے پورے شہر کو پانی فراہم ہو رہا ہے تو لائنوں کے ذریعے شہریوں تک پانی کیوں نہیں پہنچایا جا رہا۔
جسٹس عدنان کریم میمن نے کہا کہ درخواست گزار کے گھر تک پانی فوری طور پر پہنچایا جائے اور لائنوں کی مرمت کے لیے کچھ خرچ عوام پر بھی کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ پانی کی دستیابی کے لیے ٹینکر سسٹم پر انحصار نہیں ہونا چاہیے اور شہریوں کو قانونی یا غیر قانونی طریقے سے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
عدالت نے کہا کہ اس درخواست پر سخت فیصلہ کیا جائے گا اور شہریوں کے بنیادی حق کو یقینی بنانے کے لیے واٹر کارپوریشن کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
اصغر عمر اے آر وائی نیوز سے بطور کورٹ رپورٹر وابستہ ہیں


