The news is by your side.

Advertisement

چیئرمین نیب نے رانا ثنا اللہ کے خلاف اثاثہ جات کی تحقیقات کی منظوری دے دی

اسلام آباد: قومی ادارہ احتساب (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے خلاف اثاثہ جات کی تحقیقات کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ احتساب (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیگٹو بورڈ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اور ڈی جی نیب آپریشن سمیت دیگر افسران شریک ہوئے۔

اجلاس میں بدعنوانی کے مختلف ریفرنسز، انویسٹی گیشنز اور انکوائریز کی منظوری دی گئی۔ چیئرمین نیب نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کے خلاف بھی اثاثہ جات کی تحقیقات کی منظوری دے دی۔

اس موقع پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، میگا کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے گزشتہ 25 ماہ میں 630 کیسز میں بدعنوانی ریفرنس دائر کیے، احتساب عدالتوں میں زیر سماعت 12 سو 70 ریفرنسز کی مالیت 910 ارب روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے 25 ماہ میں 73 ارب بدعنوان عناصر سے برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

اس سے قبل ایک موقع پر چیئرمین نیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری کسی سے دوستی یا دشمنی نہیں، قانون کے مطابق کام کرنا ہے۔ کیا آپ سے یہ بھی نہ پوچھیں کہ 100 ارب کا قرضہ لیا وہ کہاں گیا؟

انہوں نے کہا تھا کہ نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ یا گروپ سے نہیں۔ نیب کا تعلق صرف پاکستان اور عوام کے ساتھ ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، پاکستان سلامت رہے گا۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ برسر اقتدار لوگوں پر نیب آنکھیں بند رکھے، ایسا نہیں ہوگا۔ تردید کرتا ہوں کہ نیب کا جھکاؤ ایک طرف ہے۔ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے، پہلے ماضی کے مقدمات پر توجہ دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں