The news is by your side.

Advertisement

لاہور سے ویانا تک کا سفر، جسٹیشیا ایوارڈ جیتنے والی ندا عثمان کی کہانی

لاہور کی خاتون وکیل ندا عثمان چوہدری نے آسٹریا میں ویانا جسٹیشیا ایوارڈ اپنے نام کرتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا، اس کے لئے انہوں نے کس قسم کے حالات کا سامنا کیا، جانئے انہیں کی زبانی .

اے آر وائی نیوز کے مارننگ پروگرام باخبر سویرا میں ندا عثمان نے خصوصی شرکت کی اور اپنی کارکردگی اور ایوارڈ سے متعلق تفصیل سے روشنی ڈالی۔

وومن ان لا انیشیٹو کیا ہے؟ کن سیکٹرز پر یہ کام کرتے ہیں؟

ندا عثمان کا کہنا تھا کہ وہ کئی برسوں سے ایک تنظیم کے تحت پاکستانی خواتین وکلا کے لیے کام کر رہی ہیں، ان خدمات کے عوض انہیں یہ ایوارڈ ملا۔

ندا عثمان کا کہنا تھا کہ جب ہم قانون کے طالب علم تھے تو ہمیں یہ نظر آرہا تھا کہ ہم اس شعبے میں بلند سطح تک نہیں جاسکتے، ایسا لگتا تھا کہ خاتون کے اس شعبے میں آنے کے بعد ترقی کے چانسز کم ہوتے ہیں، بہت کم ایسی خواتین تھیں جن کے نام ہم انگلیوں پر لے سکتے ہیں ، جو قانون کے شعبے میں آگے گئیں۔

ندا عثمان نے بتایا کہ پہلے پہل ویمن ان لا انیشیٹو ڈائیلاگ سیریز پر منعقد ہوا تھا، مگر ڈائیلاگ سیریز سے ہمیں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس کے بارے میں صرف دو چار باتیں کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے، اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سال دو ہزار سولہ سے ہم نے اس کے ریفارمز پر کام کرنا شروع کیا تاکہ خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنایا جاسکے۔

وکلا خواتین کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

خاتون وکیل کا کہنا تھا کہ انفرادی مسائل کا سامنا تو ہر خواتین کو کرنا پڑتا ہے، مگر ہمارا ایجنڈہ یہ ہے کہ قانون کے شعبے میں موجود رکاوٹوں کو ریفارمز کی مدد سے حل کیا جائے، ندا عثمان کا کہنا تھا کہ خاتون قانون کے ہرشعبے میں گراں قدر خدمات انجام دے رہی ہیں مگر ہمیں کورٹ کچہریوں میں دلائل دینے کے لئے بڑے پر تولنے پڑتے ہیں، کیس میں قدم بہ قدم معاونت کرتے ہیں۔

جسٹیشیا ایوارڈ جیتنے والی ندا عثمان نے اپنی کامیابی کو بیرسٹر انیسہ آغا، فائزہ رفیق، ماریہ چوہدری، تیمور ملک سمیت دیگر وکلا کے نام کیا،ساتھ ہی انہوں نے لمس اور آر ایس آئی ایم نے بڑی معاونت فراہم کی اور بار کونسل کا بھی شکریہ جنہوں نے رہنمائی دی۔

ندا عثمان نے اپنی کامیابی کا کریڈٹ اپنے والدین کو بھی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی، کبھی کسی قسم کی روک ٹوک نہیں کی، ہم جس چیز کا انتخاب کرنا چاہتے تھے ہمیں بھرپور سپورٹ فراہم کی، ان کے بغیر یہ سب کچھ ممکن نہ تھا۔

یاد رہے کہ ندا عثمان معروف اداکار محمود اسلم کی بڑی صاحبزادی ہیں، انہوں نے 10 ستمبر کو ویانا میں جسٹیشیا ایوارڈ اپنے نام کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں