The news is by your side.

Advertisement

خواجہ آصف نا اہلی کیس، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی سماعت سے معذرت

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر خواجہ آصف نا اہلی کیس کی سماعت کرنے سے معذرت کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے خواجہ آصف نا اہلی کیس کی سماعت کرنے سے معذرت کر لی ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگ کی جانب سے سماعت سے معذرت کرنے پر بنچ ٹوٹ گیا اور معاملہ چیف جسٹس انور خان کاسی کو منتقل کر دیا گیا۔

گزشتہ سماعت پر عثمان ڈار کی جانب سے خواجہ آصف کی نا اہلی کے لیے مزید دستاویزات عدالت میں جمع کرائے گئے تھے، دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ خواجہ آصف ماہانہ 16 لاکھ تنخواہ لے رہے ہیں، خواجہ آصف نے غیر ملکی کمپنی کے ساتھ آٹھ گھنٹے کام کا معاہدہ کیا خواجہ آصف نے غیر ملکی تنخواہ 2012 اور 2013 کے انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی۔

پی ٹی آئی رہنما نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کیس سنا جا چکا ،بینچ بنے کےبعد روزانہ سماعت ہونی چاہیے ، اقامہ اور باہر کے اثاثے پکڑے جا چکے ہیں، امید ہے جیسے ہی دوباہ بینچ بنے گا کیس کا فیصلہ آجائے گا۔


مزید پڑھیں : پی ٹی آئی کا خواجہ آصف کیخلاف نااہلی کا ریفرنس دائر


عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ نیب کےنوٹس کا مطلب ہےان کوپتہ ہےخواجہ آصف نےکرپشن کی ، خواجہ آصف کوکہتا ہوں آپ کا پیچھا نہیں چھوڑو ں گا ، خواجہ آصف نے نواز شریف سے زیادہ کرپشن کی ہے۔

یاد رہے کہ وزیر خارجہ کےخلاف درخواست تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے دائر کررکھی ہے ، جس میں کہا گیا کہ  خواجہ آصف نے اقامہ الیکشن کمیشن سے چھپایا اور سرکاری عہدے پرغیر ملکی کمپنی کی ملازمت کی، خواجہ آصف کروڑوں روپےکی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔


مزید پڑھیں : خواجہ آصف وفاقی وزیر ہونے کے ساتھ دبئی کمپنی کے ملازم نکلے


درخواست میں تنخواہ چھپانے پر آرٹیکل 62کے تحت نااہل قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

واضح رہے سیالکوٹ سے خواجہ آصف کے حلقے سے پی ٹی آئی کے امید وار عثمان ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خواجہ آصف کے اقامے کی کاپی جاری کی تھی، جس کے مطابق خواجہ آصف بھی دبئی کی کمپنی میں ملازم ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں