جمعہ, جولائی 17, 2026
اشتہار

27 ویں آئینی ترمیم : جسٹس منصور علی شاہ کے بعد جج جسٹس اطہر من اللہ کا چیف جسٹس کو خط

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : ستائیسویں آئینی ترمیم کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے بھی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس منصورعلی شاہ کے بعد جسٹس اطہر من اللہ نے بھی ستائیسویں آئینی ترمیم کے معاملے پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا۔

جس میں کہا کہ سپریم کورٹ اکثر عوام کے ساتھ کھڑی نہیں رہی، ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی عدلیہ کا ناقابلِ معافی جرم تھی۔

جسٹس اطہر نے لکھا بینظیر بھٹو، نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف کارروائیاں بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کو عوامی اعتماد حاصل کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ بہادر ججز کے خط اور اعترافات سپریم کورٹ کے ضمیر پر بوجھ ہیں، ہم سچ جانتے ہیں مگر صرف چائے خانوں کی سرگوشیوں تک محدود ہیں، جو جج نہیں جھکتا، اس کے خلاف احتساب کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

یاد رہے جسٹس منصورعلی شاہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط میں مطالبہ کیا تھا کہ بطور عدلیہ کے سربراہ فوری ایگزیکٹو سے رابطہ کریں اور واضح کریں آئینی عدالتوں کے ججوں سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں ہوسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئینی عدالتوں کے ججوں پر مشتمل کنونشن بھی بلایا جا سکتا ہے،اس وقت ملک میں کون سا آئینی خلاہے؟اس وقت آئینی عدالت کےقیام کی کیاضرورت ہے؟

جسٹس منصور نے مزید لکھا تھا کہ اس سلسلے میں عدلیہ سےموثر مشاورت نہیں کی گئی. امریکا، برطانیہ، جاپان ، آسٹریلیا میں ایک ہی اپیکس کورٹ ہوتی ہے،مضبوط جمہوری ملکوں میں الگ آئینی عدالت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

خط کے متن میں کہا گیا کہ چیف جسٹس صرف منتظم نہیں بلکہ ادارے کے سرپرست بھی ہیں، یہ لمحہ آپ سے قیادت اور فیصلہ سازی کا تقاضا کرتا ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں