جمعہ, مارچ 6, 2026
اشتہار

مرد کا کام ہے کہ عورت کو منا کے رکھے، فیملی کیس کے دوران عدالتی تاریخ میں نیا موڑ

اشتہار

حیرت انگیز

(13 فروری 2026): اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیملی کیس کی سماعت کے دوران ایک انتہائی جذباتی اور خوشگوار موڑ سامنے آیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیملی کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد کے رہائشی میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ دوبارہ رہنے پر راضی ہو گئے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے دونوں فریقین کو قائل کیا۔

جس کے بعد میاں بیوی نے عدالتی حکم نامے پر اکٹھے رہنے کے لیے دستخط کر دیے۔ عدالت نے شوہر کو حکم دیا کہ وہ اپنی اہلیہ کو تاحیات الگ پورشن فراہم کرے گا۔

کیس کی سماعت کے دوران چاروں بچوں کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان کی والدین سے ملاقات کرائی گئی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے بچوں کو روسٹرم پر بلا کر ان سے بات چیت کی۔

بچوں نے روتے ہوئے اپنی ماں سے التجا کی کہ "ماما آپ گھر آجائیں”، اس موقع پر فاضل جج نے بچوں کو تحائف بھی دیے۔ جسٹس کیانی نے ریمارکس دیے کہ "بچوں کا بٹوارا نہیں ہو سکتا، بچے پراپرٹی نہیں ہوتے”۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے دورانِ سماعت مرد کے کردار پر اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عورت اپنا گھر چھوڑ کر آتی ہے، اسے محبت اور احترام ملنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مرد کا کام ہے کہ وہ عورت کو منا کر رکھے، مرد ذرا بیوی کے گھر رہ کر دکھائے تو پتا چلے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مردوں میں تربیتی فقدان ہے اور اکثر میاں بیوی کے مسائل کے پیچھے خاندان کا عمل دخل ہوتا ہے۔

سماعت کے دوران ایک شخص کو موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے پکڑا گیا۔ جسٹس کیانی کے استفسار پر اس شخص نے بتایا کہ وہ اس تاریخی سماعت سے متاثر ہوا تھا اور گھر والوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ عدالتیں کس طرح انسانی ہمدردی کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔ عدالت نے اس کا موبائل فون قبضے میں لے لیا۔

عدالت اس کیس میں باقاعدہ تحریری حکم نامہ جاری کرے گی اس کیس کی پیروی سمعیہ قمر راجہ ایڈوکیٹ و دیگر وکلا نے کی۔

+ posts

حسن حفیظ ایک نوجوان صحافی ہیں اور اے آر وائی نیوز لاہور کے لئے صحت، تعلیم اور ایوی ایشن سے متعلق خبریں رپورٹ کرتے ہیں

اہم ترین

حسن حفیظ
حسن حفیظ
حسن حفیظ ایک نوجوان صحافی ہیں اور اے آر وائی نیوز لاہور کے لئے صحت، تعلیم اور ایوی ایشن سے متعلق خبریں رپورٹ کرتے ہیں

مزید خبریں